ہندوؤں کے قتل کے لیے بنگلہ دیش کو مالی مدد دی جا رہی ہے: سنجے راؤت کا مرکز پر سنگین الزام

سنجے راؤت نے کہا کہ ممبئی کے مراٹھی عوام ہندو ہیں اور انہوں نے ہمیشہ ملک میں ہندوتوا کی حفاظت کی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کو عوامی دباؤ کے باعث مراٹھی مہاپور مقرر کرنا پڑا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مرکزی حکومت پر نہایت سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والے مظالم کے لیے براہِ راست مرکزی حکومت ذمہ دار ہے، کیونکہ وہ بنگلہ دیش کو مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی دکانیں نذرِ آتش کی جا رہی ہیں، مندروں کو توڑا جا رہا ہے اور ہندوؤں پر حملے ہو رہے ہیں، جبکہ مرکز اس سب کو جان بوجھ کر نظرانداز کر رہا ہے۔

سنجےراؤت کا دعویٰ ہے کہ ایسے حالات کے باوجود رواں سال کے مرکزی بجٹ میں بنگلہ دیش کو کروڑوں روپے کی مالی امداد دی گئی ہے، جس کا اصل استعمال ہندوؤں کے قتل اور ان پر مظالم کے لیے ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کئی شواہد موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود حکمران جماعت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔


ممبئی کی منتخب ممیئرر ریتو تاوڑے کی جانب سے بنگلہ دیشی دراندازوں کی شناخت اور بے دخلی کے اعلان کے بعد سیاسی ماحول خاصا گرم ہو گیا ہے۔ ریتو تاوڑے کومیئر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ ممبئی کے مراٹھی عوام ہندو ہیں اور انہوں نے ہمیشہ ملک میں ہندوتوا کی حفاظت کی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کو عوامی دباؤ کے باعث مراٹھی مہاپور مقرر کرنا پڑا۔

سنجےراؤت نے مزید کہا کہ میئر کے پاس انتظامی اختیارات نہیں ہوتے اور دراندازوں کے خلاف کارروائی کرنا وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ہندوؤں پر ظلم ہو رہا ہے تو اقتدار میں بیٹھی جماعت خاموش کیوں ہے اور غیر ضروری ہندو–مسلم سیاست سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔