
ملک کی 4 لوک سبھا اور 10 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کے بعد اب تصویر تقریباً صاف ہو چکی ہے اور بی جے پی کے زیادہ تر امیدواروں کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یو پی کی کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر آر ایل ڈی امیدوار تبسم حسن نے جیت درج کی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی مرگانکا سنگھ کو 55 ہزار ووٹوں کے بڑے فاصلے سے شکست دی۔ یو پی کی نور پور اسمبلی سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار نعیم حسن نے جیت درج کی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی اونی سنگھ کو 6211 ووٹوں سے ہرا دیا۔ مہاراشٹر کی بھنڈارا گوندیا لوک سبھا سیٹ پر این سی پی امیدوار سبقت بنائے ہوئے ہیں۔ ادھر پال گھر اسمبلی سیٹ بی جے پی امیدوار نے جیت لی ہے۔
کانگریس کی امیدوار میانی ڈی شیرا نے میگھالیہ کی امپاتی سیٹ سے جیت حاصل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میگھالیہ میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔
شیو سینا سربراہ اُدھو ٹھاکرے نے انتخابی نتائج برآمد ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی پر کئی طرح کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ بی جے پی کو اب دوست کی ضرورت نہیں رہی۔ اُدھو ٹھاکرے نے مزید کہا کہ 2014 میں جب بی جے پی کی حکومت آئی تھی تو لوگوں کو لگا تھا کہ یہ حکومت 25 سال تک چلے گی لیکن گزشتہ چار سال میں بی جے پی نے کئی مقامات پر اپنی اکثریت گنوا دی ہے۔
کیرانہ میں اتحاد اور نورپور میں پارٹی کی جیت کے بعد سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ٹوئٹ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’کیرانہ اور نورپور کے عوام، کارکنان، امیدواروں اور اتحاد کی تمام جماعتوں کو جیت کی مبارک باد۔ کیرانہ میں برسر اقتدار جماعت کی ہار ملک کو بانٹنے والی اپنی ہی تجربہ گاہ میں سیاست کی ہار ہے۔ یہ امن و یکجہتی میں یقین رکھنے والے عوام کی جیت اور مغرور اقتدار کے اختتام کا آغاز ہے۔‘‘
اترپردیش کی کیرانہ لوک سبھا سیٹ سے ہار کے بعد بی جے پی امیدوار مرگانکا سنگھ نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’کافی لوگوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹنگ کی۔ میں کچھ ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئی۔ میں اتحاد کی امیدوار تبسم حسن کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ یہاں اتحاد مضبوطی سے ابھرا ہے۔ ہمیں مستقبل میں بہتر کام کرنا ہوگا۔‘‘
میگھالیہ میں امپاتی سیٹ کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد کانگرس کارکنان نے جشن منایا۔ اس سیٹ پر کانگریس کی میانی ڈی شیرا نے جیت حاصل کی ہے۔
ضمنی انتخاب میں ملی ہار پر مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما راج ناتھ سنگھ نے رد عمل ظاہر کر تے ہوئے کہا، ’’بڑی جیت کے لئے دو قدم پیچھے جانا پڑتا ہے۔ مستقبل میں ہماری بڑی جیت ہو گی۔‘‘
اترپردیش کی کیرانہ لوک سبھا سیٹ سے تبسم حسن نے جیت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے اپنی نزدیکی امیدوار مرگانکا سنگھ کو 55 ہزار کے بڑے فرق سے شکست فاش سے ہمکنار کرایا۔
بہار کی جوکی ہاٹ اسمبلی سیٹ سے بی جے پی-جے ڈی یو اتحاد کو جھٹکا لگا ہے۔ یہاں پر آر جے ڈی کے امیدوار شاہنواز نے اپنے نزدیکی امیدوار مرشد عالم کو 40 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہرایا ہے۔
اترپردیش کی نورپور سیٹ کے ضمنی انتخاب میں سماجوادی پارٹی کے نعیم الحسن فتحیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے نزدیکی امیدوار بی جے پی کی اونی سنگھ کو 6271 ووٹوں سے ہرایا۔
لوک سبھا سیٹیں
اسمبلی سیٹیں
مہاراشٹر کی پلوس-کڈے گاؤں اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار وشوجیت قدم کو بلا مقابلہ منتخب کیا گیا ہے یہ سیٹ وشوجیت کے والد اور کانگریس کے سینئر رہنما پتنگ راؤ قدم کی موت کے بعد خالی ہوئی تھی۔ یہاں سے بی جے پی نے سنگرام سنگھ دیشمکھ کو امیدوار بنایا تھا لیکن آخری وقت میں انہوں نے نامزدگی واپس لے لی۔
اس طرح یہ ضمنی انتخاب بی جے پی خیمہ کے لئے کافی مایوس کن ثابت ہوا ہے۔
میگھالیہ میں کانگریس کی امیدوار میانی ڈی شیرا نے امباتی سیٹ سے جیت درج کر لی ہے۔ انہوں نے این پی پی کے امیدوار جی مومن کو 3191 ووٹوں سے شکست دی۔
اس جیت کے ساتھ ہی میگھایہ میں کانگریس اب سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطہ کانگریس کے رہنما یہ کہنے لگے ہیں کہ انہیں حکومت سازی کا موقع دیا جانا چاہئے کیوں وہ ریاست میں سب سے بڑی پارٹی ہیں۔
تازہ صورت حال کے مطابق آر ایل ڈی کی امیدوار تبسم حسن نے 95 ہزار ووٹوں کی فیصلہ کن سبقت حاصل کر لی ہے۔ کیرانہ کے رکن اسمبلی ناہید منور حسن کے مطابق جینت سنگھ کا قافلہ دہلی سے کیرانہ کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔
نور پور اسمبلی سیٹ سے اونی سنگھ سماجوادی پارٹی کے نعیم الحسن سے پیچھے چل رہی ہیں۔
سماجوادی پارٹی کی حمایت یافتہ اور آر ایل ڈی کی امیدوار تبسم حسن جیت کے کافی نزدیک پہنچ گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹوں میں ان کی سبقت 55 ہزار کی بتائی جا رہی ہے حالانکہ سرکاری طور پر ابھی 5 مراحل کے اعداد و شمار ہی ظاہر کئے جا رہے ہیں۔
کیرانہ لوک سبھا کے نکوڑ حلقہ میں 6 مراحل کی گنتی کے بعد صورت حال، دیکھیں تصویر
ادھر نور پور اسمبلی سیٹ پر سماجوادی پارٹی کے نعیم الحسن 14 مراحل کے بعد 5146 ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں۔
پنجاب کی شاه كوٹ سیٹ پر 6 راؤنڈ کے بعد کانگریس 12000 ووٹ سے آگے چل رہی ہے۔
گونديا-بھنڈارا لوک سبھا سیٹ پر این سی پی امیدوار مدھوکر ككڑے آگے چل رہے ہیں۔
میگھالیہ کے انپاتی میں کانگریس کے ميانی ڈی شیرا 5382 ووٹ سے آگے ہیں۔
ووٹ شماری جاری، تازہ صورت حال:
ناگالینڈ کی لوک سبھا سیٹ اور میگھالیہ کی اسمبلی سیٹ کے رجحانات ابھی موصول نہیں ہو سکے ہیں۔
ناگالینڈ کی لوک سبھا سیٹ اور میگھالیہ کی اسمبلی سیٹ کے رجحانات ابھی موصول نہیں ہو سکے ہیں۔
نور پور اسمبلی سیٹ سے سماجوادی پارٹی کے نعیم الحسن آگے چل رہے ہیں۔ انہیں پہلے مرحلہ میں 4545 ووٹ ملے ہیں۔ بی جے پی کی امیدوار اونی سنگھ کو 3221 ووٹ ملے ہیں۔ پہلے مرحلے کی گنتی پوری ہو چکی ہے۔
ادھر کیرانہ لوک سبھا سیٹ سے آر ایل ڈی امیدوار تبسم حسن شروعات میں سبقت بنانے کے بعد اب پیچھے ہو گئی ہیں۔
ووٹ شماری کے رجحانات ملنے سے قبل ہی مہاراشٹر کی پالس اسمبلی سیٹ پر کانگریس کے امیدوار پتنگ راؤ قدم بلا مقابلہ منتخب کر لئے گئے ہیں۔
ملک کی 9 ریاستوں میں لوک سبھا کی 4 اور اسمبلی کی 10 سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کی ووٹ شماری کا عمل صبح 8 بجے شروع ہو گیا۔ لوک سبھا کی کیرانہ سیٹ کے نتائج پر ملک بھر کی نگاہیں مرکوز ہیں اس کے علاوہ مہاراشٹر کے پال گھر کی سیٹ کے نتائج بھی کافی اہم ہیں۔
ملک بھر میں 4 پارلیمانی اور 10 اسمبلی سیٹوں کے نتائج کا اعلان آج کیا جائے گا اور کچھ ہی دیر میں رجحانات ملنے شروع ہو جائیں گے۔ اتر پردیش کی کیرانہ لوک سبھا سیٹ تمام سیاسی جماعتوں کے لئے بے حد خاص بن گئی ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی کے سامنے پورا حزب اختلاف متحد ہو کر چناؤ لڑ رہا ہے اس لئے اس چناؤ کو 2019 کے عام انتخابات کا رُخ بھی طے کرنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
کیرانہ میں ای وی ایم کی گڑبڑی کی شکایتوں کے بعد کل 73 بوتھوں پر از سر نو پولنگ کرایا گیا۔ اس کے بعد مشترکہ امیدوار تبسم حسن کی صورت حال مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ کیرانہ جیت کے لئے بی جے پی نے اپنا سب کچھ جھونک دیا ہے اور سام دام دنڈ بھید کو اپنایا جبکہ اپوزیشن نے پوری طرح متحد ہو کر چناؤ لڑا۔
ووٹ شمار کا عمل شروع ہونے سے پہلے سہارنپور اور شاملی کے صحافیوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق اقتدار کے نزدیکی صحافیوں کے پاس بنائے گئے ہیں جبکہ دیگر صحافیوں کے ساتھ امتیاز کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کے رہنما ویریندر سنگھ کے مطابق انتظامیہ حکومت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے، صحافیوں کے پاس بنانے میں جابداری نہیں برتی جانی چاہئے۔
کیرانہ پریس کلب کے صدر مہراب چودھر کے مطابق ’’خاص صحافیوں کے پاس جاری کرنے سے غیر جانبدار خبروں کے باہر آنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ اس سے ووٹ شماری کے عمل میں گڑبڑی کئے جانے کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 31 May 2018, 7:44 AM IST