قومی خبریں

بہار: مدھوبنی میں بنگلہ دیشی قرار دے کر مزدور پر ہجومی تشدد، ریاستی اقلیتی کمیشن کی فوری کارروائی کی ہدایت

مدھوبنی میں ایک مزدور کو بنگلہ دیشی کہہ کر ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ریاستی اقلیتی کمیشن نے ملزمان کی فوری گرفتاری، سخت قانونی کارروائی اور متاثرہ خاندان کو مالی امداد یقینی بنانے کی ہدایت دی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

پٹنہ: بہار کے ضلع مدھوبنی میں ایک اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے مزدور کے ساتھ پیش آئے ہجومی تشدد کے واقعے پر ریاستی اقلیتی کمیشن نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو فوری اور مؤثر کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ کمیشن نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اس سنگین واقعے میں ملوث تمام افراد کو بلا تاخیر گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت قدم اٹھائے جائیں۔

Published: undefined

کمیشن کے خط میں کہا گیا ہے کہ مدھوبنی ضلع کے راج نگر تھانہ علاقے کے ٹیچکا گاؤں میں ایک مسلم مزدور کو مبینہ طور پر بنگلہ دیشی قرار دے کر ہجوم کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو نہایت سنگین اور قابل مذمت جرم ہے۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایسے جرائم معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور قانون کی حکمرانی پر سوال کھڑے کرتے ہیں، اس لیے ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی ضروری ہے۔

Published: undefined

ریاستی اقلیتی کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ ہجومی تشدد کے اس معاملے میں شامل تمام افراد کے خلاف مناسب دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی بہار حکومت کے جاری کردہ پرپتر کے مطابق متاثرہ خاندان کو مالی امداد فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ انہیں علاج اور دیگر ضروریات میں مدد مل سکے۔

Published: undefined

واقعے کی تفصیلات کے مطابق کچھ شدت پسند عناصر نے مزدور نورشید عالم کو بنگلہ دیشی قرار دیتے ہوئے بے رحمی سے مارا پیٹا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ متاثرہ کی شکایت پر راج نگر تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم حملہ آور تاحال فرار بتائے جا رہے ہیں۔ اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نورشید عالم خون میں لت پت زمین پر پڑا ہے اور ہجوم میں شامل ایک نوجوان بار بار اس کے چہرے پر گھونسے مار رہا ہے، جبکہ لوگ بنگلہ دیشی کہہ کر نعرے لگا رہے ہیں۔

Published: undefined

ویڈیو سامنے آنے کے بعد مدھوبنی پولیس نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 30 دسمبر 2025 کو چکدہ گاؤں میں پیش آنے والی اس مارپیٹ کی ویڈیو ان کے علم میں آئی ہے۔ ابتدائی جانچ میں واضح ہوا ہے کہ متاثرہ شخص بنگلہ دیشی نہیں بلکہ ضلع سپول کا رہائشی ہے اور فری کا کام کرتا ہے۔ پولیس سپرنڈنٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سب ڈویژنل پولیس افسر کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے، جو ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined