
علامتی تصویر آئی اے این ایس
تھوک مہنگائی میں مسلسل دوسرے ماہ بھی اضافہ جاری رہا اور دسمبر 2025 میں یہ بڑھ کر 0.83 فیصد ہو گیا۔ حکومت نے بتایا کہ دسمبر 2025 میں مہنگائی کی اہم وجہ دیگر مینوفیکچرنگ مصنوعات، معدنیات، مشینری اور آلات کی تیاری، خوراک کی مصنوعات اور ٹیکسٹائل قیمتوں میں اضافہ رہا۔ ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) کی بنیاد پر مہنگائی نومبر میں صفر سے نیچے 0.32 فیصد اور اکتوبر میں صفر سے نیچے 1.21 فیصد رہی تھی۔ اس کے برعکس دسمبر 2024 میں تھوک مہنگائی 2.57 رہی تھی۔
Published: undefined
اشیائے خوردونوش کی مہنگائی دسمبر میں 0.00 فیصد پر مستحکم رہی۔ نومبر میں اس میں 2.60 فیصد گراوٹ درج کی گئی تھی۔ حالانکہ ’رائٹرز‘ کی جانب سے ماہرین معاشیات کے سروے میں دسمبر میں تھوک مہنگائی 0.30 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اس سے قبل خوردہ مہنگائی دسمبر 2025 میں بڑھ کر 1.3 فیصد ہو گئی، جو نومبر میں 0.7 فیصد تھی۔ یہ اضافہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی اور دیگر سامانوں کی قیمتوں میں دباؤ بڑھنے کی وجہ سے ہوا۔ حالانکہ اس کے باوجود موجودہ مالی سال میں یہ مسلسل چوتھا ماہ رہا جب مہنگائی ریزرو بینک کے 4 فیصد کے ہدف سے نیچا رہا۔
Published: undefined
ضروری اشیاء کی مہنگائی نومبر میں منفی 2.93 فیصد تھی، جو دسمبر میں بڑھ کر 0.21 فیصد ہو گئی۔ جبکہ ایندھن اور بجلی کی مہنگائی دسمبر میں بھی منفی 2.31 فیصد رہی جو نومبر کے منفی 2.27 فیصد کے قریب ہی ہے۔ تیار شدہ سامان کی مہنگائی دسمبر میں بڑھ کر 1.82 فیصد ہو گئی، جو نومبر میں 1.33 فیصد تھی۔ دسمبر ماہ میں ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) میں ماہانہ بنیادوں پر 0.71 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔
Published: undefined
اس سے قبل ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے کہا تھا کہ مرکزی بینک کو اب موجودہ مالی سال میں اوسط مہنگائی 2.0 فیصد رہنے کی امید ہے۔ یہ اس کے پہلے کے اندازے 2.6 فیصد سے کافی کم ہے۔ آر بی آئی نے پورے مالی سال کے دوران مہنگائی کے تخمینے کو دھیرے دھیرے کم کیا ہے، جبکہ ترقی کی شرح کے اندازے بڑھائے ہیں۔ گزشتہ سال فروری میں مالی سال 2026 کے لیے مہنگائی کا اندازہ 4.2 فیصد تھا، جسے اکتوبر میں کم کر کے 2.6 فیصدر کر دیا گیا۔
Published: undefined
ایم پی سی نے سہ ماہی بنیادوں پر مہنگائی کے نئے تخمینے جاری کیے ہیں۔ اس کے مطابق مالی سال 2027 کی تیسری سہ ماہی میں مہنگائی 0.6 فیصد، چوتھی سہ ماہی میں 2.9 فیصد، پہلی سہ ماہی میں 3.9 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں 4.0 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ اکتوبر کی پالیسی میں یہ تخمینے اس سے زیادہ تھے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایم پی سی نے پالیسی ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹ کی کمی کر اسے 5.25 فیصد کر دیا اور اپنا موقف غیرجانبدارانہ بنائے رکھا۔ آر بی آئی نے اسے ترقی کی حمایت اور مہنگائی پر کنٹرول بنائے رکھنے کا متوازن قدم قرار دیا۔
Published: undefined
آر بی آئی نے ہندوستانی معیشت کو تیز رفتار ترقی اور کم مہنگائی کے ایک خاص دور میں قرار دیا۔ یہ تخمینہ آر بی آئی کے حالیہ 7.3 فیصد کے تخمینے سے زیادہ ہے اور گزشتہ سال کی 6.5 فیصد کی شرح نمو سے بہتر ہے۔ برائے نام جی ڈی پی جس میں مہنگائی بھی شامل ہے، رواں مالی سال میں 8 فیصد کی شرح سے بڑھنے کی امید ہے جو گزشتہ سال کے 9.7 فیصد سے کم ہے۔ انہی اعداد و شمار کو یکم فروری کو پیش ہونے والے مرکزی بجٹ کی بنیاد بنایا جائے گا۔ مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں ہندوستان کی معاشی رفتار مزید تیز ہوئی۔ اس دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 8.2 فیصد رہی، جو گزشتہ 6 سہ ماہیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ مارکیٹ کے اندازوں سے بھی زیادہ اور اپریل-جون سہ ماہی کے 7.8 فیصد اضافے سے بہتر ہے۔ اس سے قبل کے 2 مالی سالوں میں معیشت 6.5 فیصد اور 9.2 فیصد کی شرح سے بڑھی تھی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined