نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کی مانگ پر الہ آباد ہائی کورٹ برہم، سنبھل انتظامیہ کو ’نااہلی‘ پر استعفیٰ دینے کا مشورہ
سنبھل انتظامیہ نے عدالت سے کہا تھا کہ زیادہ بھیڑ ہونے سے حفاظتی انتظامات نہیں کئے جاسکتے۔ اس وجہ سےعید پرمحدود تعداد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ حالانکہ عدالت نے اس دلیل کو یکسر مسترد کردیا۔

اترپردیش کے ضلع سنبھل واقع مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے یوپی انتظامیہ کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر افسر نظم ونسق برقرار نہیں رکھ سکتے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ عدالت نے ریاست کے فرائض پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اترپردیش انتظامیہ ہر کمیونٹی کے اپنے مذہبی مقام پر پُرامن عبادت کرنے کا حق یقینی بنائے، خاص طور پر اگر یہ نجی ملکیت ہو۔
جسٹس اتل شریدھر اور سدھارتھ نندن کی بنچ نے کہا کہ اگر ایس پی اور ضلع کلکٹر نظم ونسق برقرار رکھنے سے قاصر ہیں تو انہیں یا تو استعفیٰ دے دینا چاہئے یا تبادلہ مانگ لینا چاہئے بجائے اس کے کہ وہ عدالت راحت طلب کریں، اگر وہ قانون کی تعمیل کرانے کے قابل نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ ریمارکس مناظر خان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیئے۔ دوران سماعت درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ رمضان المبارک میں پلاٹ نمبر291 میں نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق وہاں ایک مسجد واقع ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے تلخ تبصرہ کیا۔۔
عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر کمیونٹی مقررہ مذہبی مقام پر پُرامن طریقے سے عبادت کرسکے اور اگر یہ نجی ملکیت ہے، جیسا کہ عدالت نے پہلے ہی کہا ہے تو ریاست سے کسی بھی اجازت کے بغیرعبادت کرنے کا حق ہے۔ پولیس افسران کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ زیادہ بھیڑ ہونے سے حفاظتی انتظامات نہیں کئے جاسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے موقع پر وہاں تعداد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ حالانکہ عدالت نے اس دلیل کو یکسر مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال یہاں تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ سنبھل میں ماہ رمضان کے آخری جمعہ (جمعۃ الوداع) کی نماز سخت سیکورٹی کے درمیان ادا کی گئی تھی۔ نماز کی ادائیگی کے دوران بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ پورے شہر کی نگرانی سی سی ٹی وی کنٹرول روم سے کی گئی تھی۔ نماز کے دوران ملک، دنیا اور شہر میں امن و امان کے لیے دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر 2500 سے زائد لوگوں نے نماز ادا کی تھی۔ عدالت کے سخت تبصرے کے بعد دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں انتظامیہ کی طرف سے کیا تیاریاں کی جاتی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔