
پریس کانفرنس کے دوران کانگریس لیڈر راجندر پال گوتم (ویڈیو گریب)
کانگریس نے منگل (28 اپریل) کو کانفرنس کر بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایس سی ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر راجندر گوتم نے کہا کہ ’’بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کے لوگوں کے ساتھ ظلم و وستم کے واقعات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ اگر کسی سیاسی پارٹی کا لیڈر یا وفد متاثرہ کے اہل خانہ سے ملنے جاتا ہے تو انہیں روکا جاتا ہے۔ اگر وفد پہنچ بھی جاتا ہے تو دبنگ لوگ ان پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ ایسے معاملات میں انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ پولیس دبنگوں پر کارروائی کرنے کے بجائے وفد میں شامل لوگوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ پہلے ایسی جابرانہ کارروائیاں انگریز کرتے تھے، لیکن آج اقتدار میں بیٹھے منووادی لوگ ویسا ہی سلوک دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں، غریبوں اور مزدوروں سمیت اپوزیشن اور ان کے لیڈران پر کر رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
راجندر پال گوتم نے پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ ’’آج آئی پی ایس/آئی اے ایس افسران اپنی طاقت کا استعمال اقتدار کے اشاروں پر اپوزیشن، دلتوں، پسماندہ طبقات اور مزدوروں کو کچلنے کے لیے کر رہے ہیں۔ غازی پور میں ایک وشوکرما سماج کی ایک بیٹی کا قتل ہوا، جہاں ہمارا وفد متاثرہ خاندان کو تسلی دینے جا رہا تھا۔ وفد کو روکنے کے لیے ڈی ایم نے دفعہ 163 کا حوالہ دیا۔ جہاں ایک طرف قانون کہتا ہے کہ متاثرہ کی شناخت ظاہر نہیں ہونی چاہیے، وہیں دوسری طرف ڈی ایم اپنے حکم میں خود ہی متاثرہ کی شناخت ظاہر کرتے نظر آئے۔ یعنی ضلع کے ڈی ایم کی نظر میں آئین اور قانون کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس لیڈر نے پریس کانفرسن کے دوران یہ بھی کہا کہ ’’یوپی کے ہردوئی میں کشواہا سماج کی بیٹی کا قتل ہوا اور پرتاپ گڑھ میں دلت سماج کی بیٹی کا قتل کر کے درخت سے لٹکا دیا گیا۔ یوپی میں مسلسل دلت اور پسماندہ طبقات پر مظالم بڑھ رہے ہیں۔ کئی معاملوں میں دباؤ بنا کر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی تبدیلی کیے جانے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’کل کانگریس کا ایک وفد دہلی ایئرپورٹ پہنچا، جہاں پولیس افسران ہم پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ پھر جیسے ہی ہم وارانسی پہنچے وہاں بھی پولیس نے ہمیں روک دیا۔‘‘ راجندر پال گوتم نے حکومت سے کئی تلخ سوالات بھی پوچھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کانگریس پارٹی کا وفد متاثرہ کے اہل خانہ سے ملنے جا رہا تھا تو حکومت نے اتنی فورس کیوں لگائی؟ کیا ہم مجرم ہیں؟ یوپی پولیس نے ہمیں غازی پور جانے سے کیوں روکا؟ ہمیں وارانسی کے کانگریس دفتر بھی نہیں جانے دیا، کیوں؟ پولیس افسران ہمیں قیدیوں کی گاڑی میں تھانے لے گئے اور پورا دن حراست میں رکھا، کیوں؟‘‘
Published: undefined
کانگریس لیڈر راجندر پال گوتم نے مزید کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے کہ پولیس کے ان افسران اور ڈی ایم پر مقدمہ درج کیا جائے، جنہوں نے ہمارے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ ہم سب کو کانگریس دفتر جانے سے روکا اور ہمیں گرفتار کر قیدیوں کی وین میں تھانے لے گئے۔‘‘
Published: undefined
اوڈیشہ پردیش کانگریس کمیٹی کے انچارج اجے کمار للو نے پریس کانفرنس کے دوران یوپی میں پیش آئے جرائم کے کچھ واقعات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہردوئی میں ایک خاتون کو قتل کر دیا گیا۔ پرتاپ گڑھ میں ایک لڑکی کا قتل کر کے اس کی لاش درخت سے لٹکا دی گئی۔ میرٹھ میں ایک 50 سالہ دلت خاتون کا قتل کر دیا گیا۔ کانپور میں ایک 14 سالہ لڑکی کو اغوا کرکے اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ فرخ آباد میں 8 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ بلند شہر میں 6 سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل کر دیا گیا۔ گورکھپور میں 13 سالہ لڑکی کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔‘‘
Published: undefined
پریس کانفرنس کے دوران اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’’یوپی میں جرم کا یہ حال ہے لیکن وزیر اعلیٰ یوگی دوسری ریاستوں میں جا کر فلمی ڈائیلاگ مارتے ہیں۔ یوپی میں خواتین کے خلاف جرائم کا عالم یہ ہے کہ ہر سال تقریباً 65000 مقدمات درج ہوتے ہیں۔ ہر ماہ تقریباً 5500 اور ہر گھنٹے 8 خواتین کے ساتھ ہراساں کیے جانے کے واقعات پیش آتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیراعظم مودی بھی آج بنارس میں ہیں۔ وہ وہاں خواتین کی ایک کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا وہ غازی پور میں اس متاثرہ خاندان سے بھی ملنے جائیں گے، جہاں ایک بیٹی کا قتل کر دیا گیا؟‘‘
Published: undefined
کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ روی ورما نے کہا کہ ’’کل غازی پور جانے کے دوران ہمیں پتہ چلا کہ وزیر اعلیٰ اور ان کے نمائندے آج تک متاثرہ خاندان سے ملنے نہیں گئے ہیں، جبکہ گاؤں کے دبنگ لوگوں کے اشاروں پر معاملے میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ جس ریاست میں متاثرہ کو انصاف ملنا ممکن نہ ہو، وہاں صدر راج نافذ ہو جانا چاہیے، لیکن ان چیزوں پر کوئی غور نہیں کر رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں لکھیم پور کھیری سے آتا ہوں۔ حال ہی میں ایک معاملہ سامنے آیا، جہاں قبائلی بچیوں کے ساتھ ایک ٹیچر نے ’چائلڈ ابیوز‘ کیا۔ اس بارے میں بچوں کو پتہ نہیں تھا، لیکن جب ایک خاتون ٹیچر نے انہیں ’بیڈ ٹچ-گُڈ ٹچ‘ کے بارے میں بتایا، تب انہوں نے ساری بات اپنے گھر پر بتائی۔ اس معاملے میں جب اہل خانہ نے آواز اٹھائی تو ایف آئی آر درج ہوئی، لیکن ڈیڑھ ماہ سے زیادہ گزرنے کے باوجود نہ ملزم گرفتار ہوا اور نہ ان بچیوں کو انصاف ملا۔ یہ حال تب ہے جب وزیر اعلیٰ حال ہی میں وہاں دورے پر گئے تھے اور وہاں کی ڈی ایم اور کپتان دونوں خواتین ہیں۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined