دہلی کی خواتین کے 2500 روپے کہاں گئے؟ ’مودی کی گارنٹی‘ پر آتشی کا تیکھا سوال

آتشی نے کہا کہ دہلی کی خواتین سے 2500 روپے دینے کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے بی جے پی پر دھوکہ دہی، سہولتوں میں کمی اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا

<div class="paragraphs"><p>آتشی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی کی سیاست میں ایک بار پھر بیان بازی تیز ہو گئی ہے، جہاں عام آدمی پارٹی کی سینئر لیڈر اور دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین سے کیے گئے وعدوں، سرکاری سہولتوں میں کمی اور حالیہ سیاسی پیش رفت کو بنیاد بنا کر مرکز اور بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آتشی نے کہا کہ جنوری 2025 میں دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ 8 مارچ 2025 کو دہلی کی ہر خاتون کے بینک کھاتے میں 2500 روپے منتقل کیے جائیں گے۔ اس وعدے کو ’مودی کی گارنٹی‘ کا نام دیا گیا تھا، جسے بڑے پیمانے پر انتخابی مہم میں پیش کیا گیا، تاہم اب 8 مارچ 2026 بھی گزر چکی ہے، لیکن خواتین کو ایک روپیہ بھی موصول نہیں ہوا۔

آتشی نے اس معاملے کو دہلی کی خواتین کے ساتھ کھلا دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے جھوٹے وعدوں کے ذریعے ووٹ حاصل کیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ واقعی گارنٹی تھی تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوے صرف تقریروں تک محدود ہیں اور زمینی سطح پر کوئی اقدام نظر نہیں آتا۔

انہوں نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ دیگر ریاستوں، خاص طور پر مغربی بنگال میں جا کر خواتین کو مالی امداد دینے کے وعدے کر رہی ہیں، جبکہ دہلی کی خواتین ابھی تک اپنے حق کا انتظار کر رہی ہیں۔ آتشی نے کہا کہ یہ رویہ عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔


اس کے ساتھ ہی انہوں نے خواتین سے متعلق سہولتوں میں کمی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق پہلے دہلی میں خواتین کو ڈی ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت حاصل تھی لیکن اب انہیں ’پنک کارڈ‘ کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے سو سے ڈیڑھ سو تک محلہ کلینک بند کر دیے ہیں، جس کے باعث خواتین اور عام شہریوں کو مفت علاج اور ادویات کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔

آتشی نے راجیہ سبھا کے سات ارکان کے بی جے پی میں شامل ہونے کے معاملے پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے جاری کردہ سرکاری اعلامیہ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین اور سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود اس طرح کا انضمام درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق دل بدل مخالف قانون کی روح کے خلاف ایسے اقدامات جمہوری نظام کو کمزور کرتے ہیں۔

آتشی نے بی جے پی پر جمہوریت اور آئین کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہر حد پار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ناانصافی اور جبر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے اور بالآخر ان کا خاتمہ ہو کر رہتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔