جائیداد دھوکہ دہی کیس: محض خریداری فوجداری کارروائی کے لیے کافی نہیں، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ نے کہا کہ محض متنازعہ جائیداد خریدنا فوجداری مقدمے کی بنیاد نہیں بن سکتا جب تک جعلسازی یا سازش میں شمولیت کا واضح ثبوت نہ ہو، اور ایک خریدار کے خلاف کارروائی ختم کر دی

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جائیداد سے متعلق ایک پرانے دھوکہ دہی کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی متنازعہ جائیداد کی محض خریداری، بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے، خریدار کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ عدالت نے تمل ناڈو کے ایک جعلی وصیت نامے اور جائیداد کی فروخت سے متعلق کیس میں ایک خریدار کے خلاف جاری فوجداری کارروائی کو منسوخ کر دیا۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا، جس میں اپیل کنندہ ایس آنند کے خلاف کارروائی ختم کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ 2004 میں درج ایف آئی آر سے جڑا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کرور ضلع میں ایک وصیت کو جعلی طریقے سے تیار کر کے آبائی جائیداد کو دھوکہ دہی کے ذریعے فروخت کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ پر ایسا “ایک ذرہ بھی ثبوت” موجود نہیں ہے، جس سے یہ ظاہر ہو کہ اپیل کنندہ کا مبینہ جعلی وصیت نامہ تیار کرنے یا کسی سازش میں کوئی کردار تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ خریداری کے وقت اپیل کنندہ کو کسی قسم کی جعلسازی کا علم تھا۔


عدالت نے یہ اصول دہرایا کہ اگر کوئی شخص کسی جائیداد کو مناسب قیمت کے عوض خریدتا ہے اور وہ بظاہر ایک جائز خریدار ہے تو اس کے خلاف دھوکہ دہی کا فوجداری مقدمہ اس وقت تک قائم نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کے بدنیتی پر مبنی ارادے یا فعال سازش میں شامل ہونے کا واضح ثبوت موجود نہ ہو۔

یہ کیس شکایت کنندہ کے ان الزامات پر مبنی تھا کہ اس کے مرحوم بھائی نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر والد کی وصیت کو جعلی بنایا اور اس کی بنیاد پر مختلف خریداروں، جن میں اپیل کنندہ بھی شامل تھا، کے حق میں سیل ڈیڈ انجام دیے، جس سے اصل وارثوں کو جائیداد کے حقوق سے محروم کر دیا گیا۔

پولیس نے اپنی تفتیش کے بعد چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں خریداروں سمیت کئی افراد پر تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ اپیل کنندہ نہ تو ان مبینہ لین دین کا حصہ تھا جو سازش کی بنیاد بنے، اور نہ ہی اس کا جعلی وصیت سے کوئی تعلق ثابت ہوتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ جائیداد کے ایسے معاملات میں عام طور پر اگر فروخت کنندہ کی جانب سے غلط بیانی ہو تو خریدار ہی متاثرہ فریق ہوتا ہے، نہ کہ کوئی تیسرا شخص، الا یہ کہ براہ راست دھوکہ دہی ثابت ہو جائے۔


بنچ نے کہا کہ حتیٰ کہ اگر وصیت کو جعلی مان بھی لیا جائے تو ایسی صورت میں خریداروں کا حق ملکیت ہی خطرے میں پڑتا ہے، اس لیے وہ خود متاثرہ فریق بن جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا کہ اپیل کنندہ کے خلاف فوجداری کارروائی جاری رکھنا عدالتی عمل کا غلط استعمال ہوگا اور اسے مکمل طور پر غلط قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف تمام کارروائی ختم کر دی، جبکہ دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔