راجہ رگھوونشی قتل معاملہ: سونم رگھونشی کی درخواست ضمانت منظور، 10 ماہ بعد جیل سے رہائی متوقع
اندور کے ہنی مون قتل کیس میں مرکزی ملزم سونم رگھونشی کو عدالت نے ضمانت دے دی۔ دس ماہ جیل میں رہنے کے بعد رہائی متوقع ہے، جبکہ دیگر ملزمان نے ابھی تک ضمانت کی درخواست نہیں دی

سنسنی خیز ہنی مون قتل کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مرکزی ملزم سونم رگھونشی کو عدالت کی جانب سے ضمانت دے دی گئی ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا کہ عدالت نے ضمانت منظور کر لی ہے، اگرچہ اس کا تفصیلی حکم ابھی جاری نہیں ہوا۔ اطلاعات ہیں کہ سونم کے اہل خانہ، جن میں ان کے والد اور چچازاد بھائی شامل ہیں، ضمانتی کاغذات مکمل کرنے کے لیے شیلانگ پہنچ چکے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں آج شام تک رہا کر دیا جائے گا۔
یہ درخواست ایسٹ خاصی ہلز ضلع اور سیشن عدالت کے لیگل ایڈ سیل کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔ سونم کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور فرد جرم بھی داخل کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ انہوں نے جانچ میں مکمل تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی تعاون جاری رکھیں گی۔ مزید یہ کہ وہ تقریباً 10 ماہ سے جیل میں ہیں، اس لیے انہیں مزید حراست میں رکھنا مناسب نہیں۔
یہ معاملہ گزشتہ سال مئی میں اس وقت سامنے آیا تھا جب اندور کے تاجر راجا رگھونشی اپنی اہلیہ سونم کے ساتھ ہنی مون کے لیے میگھالیہ گئے تھے۔ دونوں 21 مئی کو شیلانگ پہنچے اور 26 مئی کو سہرہ کی سیر کے لیے روانہ ہوئے، تاہم اسی روز دونوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد پولیس، قومی آفات سے نمٹنے والی فورس، ریاستی آفات سے نمٹنے والی ٹیم اور مقامی افراد نے بڑے پیمانے پر تلاش مہم شروع کی۔
کئی دنوں کی تلاش کے بعد دو جون کو راجا رگھونشی کی لاش سہرہ کے قریب ایک گہری کھائی سے برآمد ہوئی، جس کے بعد اس معاملے نے پورے ملک میں توجہ حاصل کر لی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی، جس میں حیران کن انکشافات سامنے آئے۔ جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سونم کے راج کشواہا کے ساتھ تعلقات تھے اور دونوں نے مبینہ طور پر مل کر راجا رگھونشی کے قتل کی سازش رچی۔
پولیس کے مطابق اس سازش میں تین دیگر افراد، وشال چوہان، آکاش راجپوت اور آنند کرمی کو بھی شامل کیا گیا، جنہیں بھاڑے پر بلایا گیا تھا۔ الزام ہے کہ ان افراد نے سونم کی موجودگی میں راجا رگھونشی کو کھائی میں دھکیل کر قتل کیا۔ واقعہ کے ایک ہفتے کے اندر ہی تمام پانچوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پانچ ستمبر کو پولیس نے تقریباً 790 صفحات پر مشتمل فرد جرم عدالت میں داخل کی، جس میں قتل کی پوری سازش اور ملزمان کے کردار کی تفصیل پیش کی گئی۔ تاہم تمام ملزمان نے اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔