
الیکشن کمیشن
نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹوں کی گنتی مراکز پر کیو آر کوڈ پر مبنی فوٹو شناختی نظام نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نظام غیر مجاز داخلے کو روکنے اور گنتی کے عمل کو منظم بنانے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے، جو ای سی آئی نیٹ پلیٹ فارم کے تحت کام کرے گا۔
Published: undefined
بیان میں بتایا گیا کہ یہ نظام 4 مئی 2026 کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی سے نافذ ہوگا۔ اس میں آسام، کیرالہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پڈوچیری کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ پانچ ریاستوں کے سات اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات شامل ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ مستقبل میں اسے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے دیگر انتخابات میں بھی نافذ کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام حالیہ عرصے میں کیے گئے اصلاحی اقدامات کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے بلاک سطح کے افسران کے لیے بھی کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ متعارف کرائے جا چکے ہیں۔
Published: undefined
بیان کے مطابق ووٹوں کی گنتی مراکز پر شناخت کی تصدیق کے لیے تین سطحی سکیورٹی نظام نافذ کیا جائے گا۔ ابتدائی دو سطحوں پر روایتی فوٹو شناختی کارڈ کی جانچ ہوگی، جو ریٹرننگ افسران جاری کرتے ہیں، جبکہ آخری سطح پر داخلہ صرف کیو آر کوڈ اسکیننگ کے بعد ممکن ہوگا۔
کمیشن نے بتایا کہ یہ شناختی نظام ان تمام افراد پر لاگو ہوگا جنہیں گنتی مراکز اور گنتی کمروں میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے، جن میں ریٹرننگ افسران، اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران، گنتی عملہ، تکنیکی اسٹاف، امیدوار اور ان کے ایجنٹ شامل ہیں۔
Published: undefined
بیان میں مزید کہا گیا کہ میڈیا نمائندوں کے لیے ہر گنتی مرکز پر ایک الگ میڈیا سینٹر قائم کیا جائے گا، جبکہ ان کا داخلہ پہلے کی طرح مجاز اجازت ناموں کے ذریعے ہی ہوگا۔
الیکشن کمیشن نے ضلع انتخابی افسران اور ریٹرننگ افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری انتظامات مکمل کریں، جن میں چیک پوائنٹس پر تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ تمام متعلقہ افسران گنتی کے عمل کے دوران سکیورٹی اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے جاری ہدایات پر عمل کریں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined