نوجوانوں کا نیا اعتماد: ٹی وی نہیں، اساتذہ...نندلال

نیٹ تنازعہ، امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مسائل پر آن لائن اساتذہ نے میڈیا اور حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ نوجوانوں کا ایک طبقہ اب ٹی وی خبروں کے بجائے ڈیجیٹل اساتذہ پر زیادہ اعتماد کر رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

سنہ 2016 میں ہندوستان میں راتوں رات نافذ کی گئی نوٹ بندی کی وہ ویڈیو آج بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہے، جس میں ایک ٹی وی اینکر نے دعویٰ کیا تھا کہ ’نئے جاری کیے گئے نوٹوں میں نینو چِپ لگی ہوئی ہے‘، جسے سیٹلائٹ کے ذریعے ٹریک کیا جا سکتا ہے اور جس کی مدد سے چھپا کر رکھا گیا نقد سرمایہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کے دعوے پرائم ٹائم کے کئی دوسرے اینکروں نے بھی کیے تھے۔ خبر اگرچہ جھوٹی تھی، لیکن وہ اس میڈیا کلچر کی علامت بن گئی جو اقتدار سے سچ بولنے کے بجائے غلط معلومات پھیلانے میں مصروف تھا۔

تقریباً ایک دہائی بعد، مئی 2025 میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران، مرکزی دھارے کے ٹی وی چینل زوال کی نئی حدیں عبور کرتے دکھائی دیے۔ کئی معروف اینکروں نے آن ایئر دعویٰ کیا کہ ہندوستانی بحریہ نے کراچی بندرگاہ پر حملہ کر دیا ہے۔ فیکٹ چیک پورٹل آلٹ نیوز نے ان دعوؤں کو اسی طرح جھوٹا، بے بنیاد اور پروپیگنڈا سے متاثر قرار دیا، جیسا کہ عام طور پر ان چینلوں کی ’’رپورٹنگ‘‘ میں دیکھا جاتا ہے۔

یہ دونوں واقعات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نریندر مودی کے دور میں ٹیلی ویژن صحافت کس حد تک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ اسی سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ آخر نوجوان نسل معلومات، حالات حاضرہ، تعلیم اور درست معلومات حاصل کرنے کے لیے دوسری جگہوں کا رخ کیوں کر رہی ہے۔

مرکزی دھارے کے میڈیا پر نوجوانوں کا اعتماد کس قدر ٹوٹ چکا ہے، یہ مئی 2026 میں کھل کر سامنے آیا۔ نیٹ پرچہ لیک معاملے اور سی بی ایس ای جماعت 12 کی آن لائن مارکنگ میں پیش آنے والی گڑبڑی پر ملک بھر میں غصہ پھیل گیا۔ طلبہ نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ حکومت اور مرکزی دھارے کا میڈیا اس معاملے کو نظر انداز کرتے دکھائی دیے، لیکن اسی دوران ایک نجی ٹی وی چینل کی معروف خاتون اینکر اور کوچنگ اساتذہ کے درمیان سوشل میڈیا پر تنازع شروع ہو گیا۔ اینکر نے اساتذہ کو ’بیکار اور معمولی لوگ‘ قرار دیا تھا۔


اب یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جہاں اس ٹی وی نیٹ ورک اور اینکر نے خان سر، ابھینیو شرما، ببیتا تیاگی اور دیگر اساتذہ کے خلاف دو کروڑ روپے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس تنازع کی شروعات 31 مئی کو ہوئی، جب ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انجنا اوم کشیپ نے ’’سیلیبریٹی اساتذہ‘‘ کو ’’کوچنگ مافیا‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ خود کو عوام کا خیر خواہ ظاہر کرتے ہیں، لیکن درحقیقت طلبہ اور ان کے والدین کا استحصال کرتے ہیں۔

آن لائن تدریس سے وابستہ اساتذہ نے فوری طور پر اس بیان پر ردعمل ظاہر کیا۔ سب سے آگے ابھینیو شرما تھے، جو ایس ایس سی کی تیاری کرنے والے طلبہ کو ریاضی پڑھاتے ہیں اور جن کے یوٹیوب پر 30 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبر ہیں۔ لاکھوں افراد کی جانب سے دیکھی گئی ایک لائیو اسٹریم میں شرما نے ’’گودی میڈیا‘‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال کرنے کے بجائے ان کا دفاع کرتا ہے۔

پٹنہ کے ’خان گلوبل اسٹڈیز‘ کے ’خان سر‘ کے نام سے معروف فیصل خان، جن کے 61 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبر ہیں، اور سونی پت کی ببیتا تیاگی بھی ان کے ساتھ آ گئیں۔ ببیتا ’’آئی سی ایس کوچنگ سینٹر‘‘ میں طلبہ کو یو پی ایس سی اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرواتی ہیں اور ان کے یوٹیوب پر 37 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبر ہیں۔ یکم جون کو جاری ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا: ’’ہمارے پرائم ٹائم نیوز میں ایسی خبریں دکھائی جاتی ہیں کہ جھالموڑی میں کون سا تیل استعمال ہوتا ہے اور اس کی خوشبو کیسی ہوتی ہے۔‘‘

خاتون اینکر کی دیگر رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے ببیتا نے کہا: ’’انہوں نے ایک بار بنگلہ دیش کی ایک بھینس کا موازنہ ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا تھا، کیونکہ اس بھینس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ رکھا گیا تھا۔ کسی شخص نے اسے صرف اس لیے خرید لیا تھا کہ اسے ذبح نہ کیا جائے۔ ہمارے ملک میں صحافت کا معیار اب یہی رہ گیا ہے۔‘‘ جلد ہی ملک بھر کے اساتذہ یہ سوال اٹھانے لگے کہ میڈیا نیٹ پرچہ لیک کے معاملے پر بات کیوں نہیں کرتا؟ مودی حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتا؟

یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا تھا جب سیاسی ماحول خاصا گرم تھا۔ راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن نیٹ معاملے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ پرچہ لیک کے ساتھ ساتھ بھرتی اور داخلہ امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف پریاگ راج جیسے شہروں میں طلبہ احتجاج کر رہے تھے۔ لیکن ان مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اساتذہ کو نشانہ بنایا جا رہا تھا؟


ببیتا نے سوال اٹھایا کہ پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کا دعویٰ کرنے والا میڈیا اسکولوں اور امتحانی نظام میں اصلاحات پر زور کیوں نہیں دیتا؟ ’’ایک بار پرچہ لیک ہو گیا تو کیا اس سے سبق نہیں سیکھنا چاہیے تھا؟ وہی ’غلطی‘ بار بار کیوں دہرائی جاتی ہے؟‘‘ ان کے مطابق جب اساتذہ طلبہ کے حقوق اور ادارہ جاتی ناکامیوں پر کھل کر سوال اٹھانے لگے تو انہیں نشانہ بنایا گیا۔

’’خان سر‘‘ کے ایک طالب علم آفتاب کہتے ہیں، ’’مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ سیاسی طور پر باخبر ہوتے ہیں۔ ہم آئین، تاریخ اور حالات حاضرہ پڑھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ’گودی میڈیا‘ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کا دفاع کرتا ہے۔ لیکن جب ہمارے مفادات متاثر ہوتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا ہماری آواز نہیں اٹھا رہا۔ اس کا ہم پر نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ ہمیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’’اساتذہ اس وقت میدان میں اترے جب ان کے طلبہ کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئیں۔’’

سینئر صحافی سدھارتھ کلہنس کا ماننا ہے کہ آن لائن تدریس سے وابستہ لوگ اگرچہ پیشہ ور صحافی نہیں ہیں، لیکن ان کی باتوں کو یوں ہی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایسے عوامی شخصیات ہیں جن کا لاکھوں طلبہ سے براہِ راست رابطہ ہے۔ اگر وہ صحافت کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہیں تو انتقامی ردعمل کے بجائے مکالمہ ہونا چاہیے۔

ان اساتذہ کی مقبولیت میں ملک، خاص طور پر چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں سستے انٹرنیٹ کے تیز پھیلاؤ نے بڑی اہمیت ادا کی ہے۔ وہ اب روایتی معنوں میں صرف استاد نہیں رہے بلکہ رائے سازی اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات بھی بن چکے ہیں۔ آن لائن دنیا میں ’’اوستھی سر‘‘ کے نام سے معروف انکیت اوستھی بھی ایسے ہی اساتذہ میں شامل ہیں۔ آئی آئی ٹی سے فارغ التحصیل اور راجستھان انتظامی خدمات کے لیے منتخب ہونے والے انکیت کا اپنا یوٹیوب چینل ہے، جس تک 58 لاکھ سے زیادہ طلبہ کی رسائی ہے۔ وہ اپنے چینل پر تعلیمی مواد کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ اور عوامی پالیسیوں پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔


کووڈ-19 کے بعد یہ پورا نظام بدل گیا۔ وبا سے پہلے ہندوستان کی کوچنگ صنعت میں روایتی کلاس رومز کا غلبہ تھا۔ لاک ڈاؤن کے دوران تعلیم آن لائن منتقل ہو گئی اور جو اساتذہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مؤثر انداز میں بات کر سکتے تھے، وہ تیزی سے مقبول ہو گئے۔ بہت سے اساتذہ صرف تعلیم تک محدود نہ رہے بلکہ دیگر سماجی اور عوامی معاملات پر بھی قابلِ اعتماد آواز بن گئے۔

’خان سر‘ کا سفر اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ابتدا میں آف لائن تدریس کرنے والے خان وبا کے دوران خاصے مشہور ہوئے۔ ان کا دیہی اندازِ تدریس طلبہ کو بہت پسند آیا۔ جیسے جیسے الگورتھم کے ذریعے ان کا مواد زیادہ لوگوں تک پہنچا، ان کے ناظرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا۔ ان کی فیس بھی کم تھی۔ (خان گلوبل اسٹڈیز کی یوٹیوب ممبرشپ 59 روپے ماہانہ ہے اور اس کا موبائل ایپ بھی موجود ہے۔) ظاہر ہے کہ کم آمدنی والے خاندانوں نے خان سر کو پسند کیا اور اپنایا۔

آفتاب بتاتے ہیں کہ انہوں نے خان سر کے آف لائن کوچنگ پروگرام سے بی پی ایس سی امتحان کی تیاری کی، جس کے لیے صرف 2600 روپے ادا کیے، جبکہ دیگر کوچنگ مراکز 20 ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں۔ انہیں تین ماہ کی تعلیم کے ساتھ ادارے کی ٹیسٹ سیریز تک مفت رسائی بھی ملی۔ ان کے مطابق آن لائن اور آف لائن کوچنگ کی فیس میں کمی لانے میں خان سر کا بڑا کردار ہے۔ تین سال پہلے کوچنگ مراکز ریکارڈ شدہ لیکچرز کے لیے بھی 8 سے 10 ہزار روپے لیتے تھے، جبکہ آج مہنگائی کے باوجود ایسے کورس تقریباً 2 ہزار روپے میں دستیاب ہیں۔ مواد اچھا ہے، فیس کم ہے اور اساتذہ بھی بہتر انداز میں پڑھاتے ہیں۔

آفتاب کہتے ہیں، ’’خان سر کا پڑھانے کا انداز اتنا آسان ہے کہ ایک رکشہ چلانے والا بھی اسے سمجھ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر جب وہ ایران-عراق جنگ کے بارے میں بتاتے ہیں تو ایسے سمجھاتے ہیں جیسے دو پڑوسی آپس میں لڑ رہے ہوں۔ ان کی گفتگو میں بھوجپوری کا رنگ بھی شامل ہوتا ہے۔ جب وہ بات کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بڑا بھائی سمجھا رہا ہو۔’’


آج ان کے پاس نجی محافظ ہیں، بے شمار مداح ہیں اور میڈیا بھی ان پر خاص توجہ دیتا ہے۔ حال ہی میں کوچنگ ادارے کے باہر فائرنگ کے واقعے کے بعد خان سر مرکزی دھارے کی خبروں میں فیصل خان کے نام سے نمایاں ہوئے۔ بعض مواقع پر بغیر سوچے سمجھے بات کرنے یا خواتین سے متعلق مذاق کرنے کی عادت پر ان پر تنقید بھی ہوئی، جو بجا سمجھی جاتی ہے۔

طالب علم ارون پانڈے کہتے ہیں، ’’یہ تو تقریباً تمام اساتذہ کرتے ہیں تاکہ ماحول ہلکا پھلکا رہے۔ کچھ لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا، لیکن کچھ اسے نظر انداز بھی کر دیتے ہیں۔ ایک گھنٹے کی ویڈیو میں ممکن ہے کہ سماجی یا سیاسی موضوعات پر صرف چند منٹ گفتگو ہو، لیکن جب آپ کے پاس 300 ویڈیوز ہوں تو ہر ویڈیو سے ایسا ایک حصہ نکال کر 300 الگ الگ کلپس بنائے جا سکتے ہیں۔‘‘

خان گلوبل اسٹڈیز کی آف لائن طالبہ کاجل کماری اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھتی ہیں۔ ان کے مطابق، ’’اس میں کوئی عجیب یا غیر آرام دہ بات نہیں ہے۔ وہ وقتاً فوقتاً ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں تاکہ بچے بور نہ ہوں۔‘‘ کاجل 15 ہزار روپے فیس ادا کر کے بی پی ایس سی پریلمز، مینز اور انٹرویو کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کے پاس کئی متبادل مواقع موجود ہیں؛ وہ پہلے ہی بہار پولیس، پیرا میڈیکل اور فائر فائٹنگ خدمات کے ساتھ ساتھ بہار قانون ساز کونسل میں ایک عہدے کے لیے منتخب ہو چکی ہیں۔ وہ سخت لہجے میں کہتی ہیں، ’’اگر میڈیا اپنا کام درست طریقے سے کر رہا ہوتا تو ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں اس کی درجہ بندی 157ویں نہ ہوتی۔‘‘

ایسے ردعمل کی ایک اصل وجہ شاید یہ بھی ہے کہ پہلی بار مرکزی حکومت کی ناکامیاں مرکزی دھارے کے میڈیا کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے براہِ راست ان لوگوں تک پہنچ رہی ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔


اس تصادم سے اٹھنے والا سوال بہت سادہ ہے: اگر مرکزی دھارے کا میڈیا اپنی ’نگران‘ (واچ ڈاگ) والی ذمہ داری مستقل مزاجی اور دیانت داری سے ادا کرتا رہتا تو کیا یہ کوچنگ اساتذہ اور یوٹیوبر اس کے سب سے مؤثر ناقد بن پاتے؟ یقیناً طلبہ تب بھی ان کی کلاسوں میں جاتے اور ان کے لیکچر دیکھتے، لیکن کس نے سوچا تھا کہ ایک دن یہی لوگ مرکزی دھارے کے میڈیا کو اس کی ذمہ داریوں کی یاد دلائیں گے اور اس کی صحافت کا ’’پوسٹ مارٹم‘‘ کریں گے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔