مغربی بنگال اسمبلی انتخاب: ریکارڈ 92.47 فیصد ووٹنگ، خواتین کی شرکت مردوں سے زیادہ

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں ریکارڈ 92.47 فیصد ووٹنگ درج ہوئی، دوسرے مرحلے میں 91.66 فیصد ووٹ پڑے۔ خواتین ووٹروں کی شرکت مردوں سے زیادہ رہی جبکہ انتخابی عمل مجموعی طور پر پرامن قرار دیا گیا

<div class="paragraphs"><p>ڈ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال اسمبلی کے لیے دو مرحلوں میں مکمل ہونے والے انتخاب میں آزادی کے بعد اب تک کی سب سے زیادہ 92.47 فیصد ووٹنگ درج کی گئی ہے، جو جمہوری عمل میں عوامی دلچسپی اور شرکت کا ایک غیر معمولی مظہر مانا جا رہا ہے۔ انتخابی کمیشن کے مطابق بدھ کو منعقد ہونے والے دوسرے اور آخری مرحلے میں شام 7 بج کر 45 منٹ تک 91.66 فیصد ووٹ ڈالے گئے، جب کہ پہلے مرحلے میں 93.19 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس طرح دونوں مرحلوں کو ملا کر مجموعی ووٹنگ کا تناسب ایک نئے ریکارڈ تک پہنچ گیا۔

انتخابی کمیشن نے بتایا کہ اس سے قبل ریاست میں سب سے زیادہ ووٹنگ 2011 کے اسمبلی انتخاب کے دوران 84.72 فیصد درج کی گئی تھی، جسے اس بار نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس انتخاب کی ایک اہم خصوصیت خواتین ووٹروں کی غیر معمولی شرکت رہی، جنہوں نے مرد ووٹروں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق دونوں مرحلوں میں مجموعی طور پر 93.24 فیصد خواتین نے ووٹ ڈالے، جب کہ مرد ووٹروں کا تناسب 91.74 فیصد رہا۔


کمیشن نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور ان میں سروس ووٹروں اور ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ شامل نہیں ہیں، اس لیے حتمی تعداد میں معمولی تبدیلی ممکن ہے۔ ریاست میں کل ووٹروں کی تعداد تقریباً 6.81 کروڑ بتائی گئی ہے، جس میں شہری اور دیہی دونوں علاقوں کے لوگ شامل ہیں۔

علاقائی سطح پر دیکھا جائے تو سب سے کم ووٹنگ کولکاتا (جنوب) کے انتخابی ضلع میں 87.25 فیصد درج کی گئی، جو دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم ضرور ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ بھی ایک مضبوط شرکت کی نشاندہی کرتی ہے۔ انتخابی عمل کے دوران چند مقامات پر چھٹ پٹ جھڑپوں اور تشدد کی خبریں سامنے آئیں، تاہم حکام کے مطابق مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن رہا۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اس تاریخی ووٹنگ پر ردعمل دیتے ہوئے ریاست کے ووٹروں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ جمہوریت کی مضبوطی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔

انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے لائیو ویب کاسٹنگ کا بھی استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے تمام پولنگ مراکز پر نظر رکھی گئی۔ حکام کے مطابق شام 6 بجے کے بعد بھی کئی مراکز پر ووٹروں کی قطاریں موجود تھیں، جس کی وجہ سے حتمی ووٹنگ کا فیصد بعد میں جاری کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں 152 اسمبلی حلقوں کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی، جب کہ دوسرے مرحلے میں باقی 142 حلقوں کے لیے پولنگ کرائی گئی۔ اب ان انتخابات کے نتائج 4 مئی کو دیگر ریاستوں کے ساتھ اعلان کیے جائیں گے، جس کا سب کو بے صبری سے انتظار ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔