مغرب میں ہندوستانی کیوں ناپسند کیے جا رہے ہیں؟...اشوک سوین
مغرب میں ہندوستانیوں کے خلاف بڑھتی مخالفت صرف نسل پرستی کا نتیجہ نہیں بلکہ تارکینِ وطن مخالف سیاست، بعض ہندوستانیوں کے ثقافتی تکبر، قوم پرستی اور سماجی رویوں پر اٹھنے والے سوالات سے بھی جڑی ہوئی ہے

پانچ سال پہلے میں نے ایک مضمون لکھ کر ’ہندو فوبیا‘ کے اس تصور کو مسترد کیا تھا جسے ایک حقیقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ وہ ایسا دور تھا جب شمالی امریکہ اور یورپ میں سرگرم متعدد ہندوتوا نواز تنظیمیں ’اسلاموفوبیا‘ کے سیاسی جواب کے طور پر اس اصطلاح کو عام کرنے میں مصروف تھیں۔ حکمتِ عملی واضح تھی: اگر مسلمان امتیاز، تعصب اور تشدد کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں تو ہندو بھی اپنے اوپر منڈلاتے مبینہ خطرات کا بیانیہ بنا کر ہندوستان میں ہندوتوا کی سیاست کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت ہندوستان میں اکثریتی قوم پرستی پر ہونے والی تنقید کو ’ہندو دشمنی‘ کا نام دے کر پیش کیا گیا۔
پانچ برس گزر چکے ہیں، مگر یہ بیانیہ آج بھی پوری قوت سے موجود ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہاؤس واپسی نے مغربی دنیا کے بڑے حصے میں انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کو مزید حوصلہ دیا ہے۔ تارکینِ وطن کے خلاف بیان بازی اب مرکزی دھارے کی سیاست کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ سفید فام قوم پرست گروہ، جو کبھی سیاسی حاشیے پر سمجھے جاتے تھے، آج پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اس نئے ماحول میں بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی نسلی تعصب اور غیر ملکیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے خلاف نفرت کا یہ رجحان حقیقی بھی ہے، بدصورت بھی اور مسلسل بڑھتا بھی جا رہا ہے۔ آئرلینڈ، اٹلی، آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں ہندوستانیوں پر حملوں کی خبریں اب معمول بنتی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ہندوستانیوں کے خلاف کھلے عام نسل پرستانہ اور توہین آمیز تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ میں ویوک راماسوامی جیسے انتہائی کامیاب ہندوستانی نژاد امریکی، جنہوں نے پورے جوش کے ساتھ خود کو ٹرمپ سے وابستہ کیا تھا، اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ سیاسی وفاداری انہیں نسلی تعصبات سے محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ سفید فام بالادستی کے حامیوں کی نظر میں ہندوستانی ہمیشہ ’باہر سے آنے والے‘ ہی رہیں گے، چاہے ان کی دولت، تعلیم، سیاسی نظریات یا پیشہ ورانہ حیثیت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو۔
تاہم ہندوستانیوں کے خلاف اس نسل پرستی کو ’ہندو فوبیا‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس دشمنی کی جڑ ان کی ہندو شناخت میں نہیں ہے بلکہ اس کے پسِ پشت نسلی تعصب، معاشی عدم تحفظ اور تارکینِ وطن مخالف سیاست جیسے عوامل کارفرما ہیں۔
طویل عرصے تک بیرونِ ملک ہندوستانیوں کی شبیہ نہایت مثبت رہی۔ انہیں محنتی، تعلیم یافتہ، کاروباری ذہن رکھنے والے اور قانون کا احترام کرنے والے ’مثالی تارکینِ وطن‘ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ طب، انجینئرنگ، تعلیم، ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں ان کی کامیابیوں نے انہیں عزت اور پذیرائی دلائی۔ لیکن اب ہندوستانیوں کے بارے میں یہ بنیادی تاثر بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ تارکینِ وطن میں بڑھتا ہوا اندھا قوم پرستانہ رجحان ہے۔ گزشتہ تقریباً دس برس کے دوران مودی حکومت نے بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں میں ’تہذیبی فخر‘ کے احساس کو بھرپور انداز میں فروغ دیا ہے۔ اپنی ثقافتی جڑوں اور ورثے پر فخر کرنا ایک مثبت بات ہے، لیکن جب یہی فخر تکبر میں بدل جائے تو دوسروں کے لیے اشتعال اور ردِعمل کا سبب بن جاتا ہے۔
بیرونِ ملک مقیم بہت سے خوش حال ہندوستانی، خصوصاً اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو، اب خود کو محض کامیاب تارکینِ وطن نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے نمائندوں کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ انہوں نے اس بیانیے کو مکمل طور پر قبول کر لیا ہے کہ مودی کی قیادت میں ہندوستان ’وشو گرو‘ یا ایک عالمی طاقت بن چکا ہے جو دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ اس تصور نے ان کے اندر ایک غیر ضروری احساسِ برتری کو جنم دیا ہے۔
تارکینِ وطن ہندوستانیوں کے بعض حلقوں میں اب دیگر مہاجر برادریوں کو کمتر سمجھنے اور مقامی معاشروں سے خصوصی برتاؤ کی توقع رکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پیشہ ورانہ کامیابی نے ان کے اندر یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ وہ زیادہ توجہ، زیادہ شناخت اور زیادہ اثر و رسوخ کے مستحق ہیں۔ مغربی معاشروں نے ان کے اس بڑھتے ہوئے تکبر اور استحقاق کے احساس کو محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔
بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کا یہ ثقافتی تکبر، جارحانہ قوم پرستی اور مقامی سماجی اقدار کے لیے احترام کی کمی اب مغربی ممالک میں عوامی مباحث کا موضوع بنتی جا رہی ہے۔ وہاں کے دانشور اب ان معاشروں کے تضادات پر سوال اٹھا رہے ہیں جو ایک طرف ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کو برقرار رکھتے ہیں اور دوسری طرف ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں مساوات کو بنیادی قدر سمجھا جاتا ہے۔ جامعات، دفاتر اور سماجی تنظیموں میں اب ذاتی شناخت سے متعلق ایسے تناؤ دیکھے جا رہے ہیں جن کا مغربی معاشروں نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا تھا۔
ہندوستانی سیاح بھی بیرونِ ملک ہندوستانیوں کی بگڑتی ہوئی شبیہ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ایسے ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے جن میں ہندوستانی سیاح قواعد کی خلاف ورزی کرتے، عوامی مقامات پر ہنگامہ آرائی کرتے، مقامی روایات کا احترام نہ کرتے یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ ممکن ہے ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہو، لیکن ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں اعداد و شمار سے زیادہ کسی ویڈیو کا وائرل ہونا اہمیت رکھتا ہے۔
اس طرزِ عمل کی سب سے نمایاں خصوصیت وہ احساسِ استحقاق ہے جو دنیا میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی حیثیت اور مودی کے عالمی قد و قامت کے بارے میں کیے جانے والے مبالغہ آمیز دعووں سے جنم لیتا ہے۔ مودی حکومت کے قوم پرستانہ پروپیگنڈے کے مسلسل اثر میں رہنے کے باعث اس ہنگامہ پسند طبقے کو یہ گمان ہو گیا ہے کہ ہندوستان پہلے ہی ایک عالمی طاقت بن چکا ہے، مودی دنیا کے سب سے مقبول رہنما ہیں، ’ہندوستانی ثقافت‘ کو ہر جگہ غیر معمولی احترام حاصل ہے اور ہندوستانیوں کو دنیا کے ہر کونے میں خصوصی عزت ملنی چاہیے۔ جب یہ تصور زمینی حقیقت سے ٹکراتا ہے تو ایسا رویہ پیدا ہوتا ہے جسے مقامی لوگ برداشت نہیں کر پاتے۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نسل پرستی کو کسی بھی صورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ نسل پرستانہ رویوں کی مکمل ذمہ داری ہمیشہ ظلم کرنے والے پر ہی عائد ہوتی ہے۔ تاہم ان منفی تصورات کے پھیلاؤ کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے صرف مذمت کافی نہیں۔ اس کے لیے اس سماجی اور سیاسی پس منظر کو بھی گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے جس میں یہ تصورات جنم لے رہے ہیں۔
ایک اور ناخوشگوار حقیقت خود ہندوستانی برادری کے اندر موجود تعصبات اور نسل پرستانہ رویوں سے متعلق ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب، سیاہ فام افراد کے بارے میں منفی تصورات، پناہ گزینوں سے دشمنی اور تقسیم پیدا کرنے والی قوم پرستانہ سیاست کی حمایت اب بیرونِ ملک ہندوستانیوں کی شناخت کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس میں ایک حیران کن تضاد موجود ہے: ہندوستانیوں کے خلاف نسل پرستی کے سب سے بلند آواز ناقدین وہی لوگ ہیں جو ہندوستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں تارکینِ وطن، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی سیاسی تحریکوں کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ تضاد ٹرمپ اور دیگر انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کی حمایت کرنے والے ہندوستانیوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ان کی معاشی کامیابی اور سیاسی وفاداری انہیں قدامت پسند قوم پرست حلقوں میں قبولیت دلوا دے گی۔ انہوں نے دوسروں کے خلاف ہونے والی تارکینِ وطن مخالف مہمات کی خوش دلی سے حمایت کی، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ خود اس کے منفی نتائج سے محفوظ رہیں گے۔ لیکن سفید فام قوم پرستی نہ ہندو اور مسلمان میں فرق کرتی ہے، نہ سکھ اور عیسائی میں، نہ امیر اور غریب میں، اور نہ ہی قدامت پسند اور لبرل میں۔ جب نسلی عدم تحفظ بڑھتا ہے تو ہر ’’غیر ملکی‘‘ اس کا ہدف بن جاتا ہے۔
اگرچہ ہندوستانیوں کے خلاف نسل پرستی ایک حقیقی مسئلہ ہے، لیکن بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کو ہر قسم کی سماجی تنقید کو ’’نسل پرستی‘‘ کا نام دینے کی عادت سے بھی بچنا ہوگا۔ سماجی رویوں کے بارے میں ہر شکایت اجنبی دشمنی (زینوفوبیا) نہیں ہوتی۔ ذات پات کے امتیاز پر ہونے والی بحثیں ہندوستان مخالف نہیں ہیں، اور نہ ہی ہندوستان میں اکثریتی قوم پرستی پر تنقید کو ہندو مذہب پر حملہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
مغربی دنیا کے بعض حصوں میں ہندوستانیوں کو جس مخالفت اور دشمنی کا سامنا ہے، وہ دو متوازی عوامل کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف اس کی وجہ تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے والی انتہائی دائیں بازو کی سیاست کا پھیلاؤ ہے، تو دوسری طرف خود ہندوستانیوں کے بعض حلقوں میں موجود نسلی اور ذاتی تعصبات، ثقافتی تکبر اور زہریلے ہندوتوا کی حمایت بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے، جس نے برسوں میں حاصل ہونے والی نیک نامی اور خیرسگالی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
مغرب میں بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کا مستقبل صرف نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھانے پر منحصر نہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ وہ شہری ذمہ داری کے اصولوں کو دوبارہ اپناتے ہیں یا نہیں؛ کیا وہ ان معاشروں کا احترام کر سکتے ہیں جن میں اب وہ رہ رہے ہیں، اور کیا وہ ان ممالک کی قدر کر سکتے ہیں جنہیں اب وہ اپنا گھر کہتے ہیں۔
(مضمون نگارا اشوک سوین، سویڈن کی اوپسلا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات کے مطالعے کے پروفیسر ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
