مغربی بنگال اسمبلی انتخابات: دوسرے مرحلے میں شام پانچ بجے تک تقریباً 90 فیصد ووٹنگ، عوامی جوش عروج پر
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں شام پانچ بجے تک تقریباً 90 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ مختلف اضلاع میں 90 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ رہا، جبکہ مجموعی طور پر عمل زیادہ تر پرامن بتایا گیا

کولکاتا: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران ووٹروں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو ملا، جس کے نتیجے میں شام پانچ بجے تک تقریباً 89.99 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ انتخابی حکام کے مطابق یہ شرح جمہوری عمل میں عوامی شمولیت کا ایک مضبوط اشارہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کے عوام نے اپنے حق رائے دہی کے استعمال میں بھرپور دلچسپی لی۔
دن بھر مختلف پولنگ مراکز پر ووٹروں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ صبح کے اوقات میں ووٹنگ کی رفتار نسبتاً معتدل رہی، تاہم دوپہر کے بعد اس میں نمایاں تیزی آئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دوپہر ایک بجے تک پہلے چھ گھنٹوں میں 61.11 فیصد ووٹنگ درج کی گئی تھی، جو تین بجے تک بڑھ کر 78.68 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد بھی ووٹروں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، جس کی وجہ سے شام تک ووٹنگ کی شرح تقریباً 90 فیصد کے قریب پہنچ گئی۔
اضلاع کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو کئی علاقوں میں 90 فیصد سے زائد ووٹنگ درج کی گئی، جو ایک قابل ذکر پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ پورب بردھمان میں سب سے زیادہ 92.46 فیصد ووٹنگ ہوئی، جبکہ ہوگلی میں 90.34 فیصد اور نادیا میں 90.28 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ دیگر اضلاع میں بھی ووٹروں کی شرکت متاثر کن رہی اور مجموعی رجحان مثبت نظر آیا۔
ہاوڑہ میں 89.44 فیصد، شمالی 24 پرگنہ میں 89.74 فیصد اور جنوبی 24 پرگنہ میں 89.57 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ شہری علاقوں میں بھی ووٹنگ کا رجحان حوصلہ افزا رہا، جہاں کولکاتا شمالی میں 87.77 فیصد اور کولکاتا جنوبی میں 86.11 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ووٹرز نے یکساں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
انتخابی حکام کے مطابق بیشتر مقامات پر ووٹنگ کا عمل پرامن اور منظم انداز میں مکمل ہوا۔ پولنگ مراکز پر انتظامات تسلی بخش رہے اور ووٹروں کو کسی بڑی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اگرچہ بعض علاقوں سے چھٹ پٹ تشدد اور بے ضابطگیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم کسی بڑی ناخوشگوار صورتحال کی خبر نہیں ملی۔ مرکزی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ 142 عام مبصرین اور 95 پولیس مبصرین کی نگرانی میں حالات بڑی حد تک قابو میں رہے۔
واضح رہے کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ 23 اپریل کو 152 نشستوں پر مکمل ہوئی تھی، جبکہ دوسرے مرحلے میں 29 اپریل کو 142 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ اب تمام نگاہیں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی کے بعد انتخابی نتائج کا اعلان کیا جائے گا، جس سے ریاست کی سیاسی سمت کا تعین ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔