قومی خبریں

آسام: 12 مئی کو دوسری بار وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیں گے ہیمنت بسوا سرما

بی جے پی نے قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کرنے کے لیے پارٹی کے سابق قومی صدر جے پی نڈا اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کو مبصر مقرر کیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>ہیمنت بسوا سرما، تصویر یو این آئی</p></div>

ہیمنت بسوا سرما، تصویر یو این آئی

 

آسام میں بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے حالیہ اختتام پذیر سمبلی انتخاب میں جیت درج کرنے کے بعد حکومت سازی کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اتوار (10 مئی) کو منعقدہ این ڈی اے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں ہیمنت بسوا سرما کو متفقہ طور پر این ڈی اے قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے مسلسل دوسری بار وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

Published: undefined

گواہاٹی میں منعقدہ میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر جے پی نڈا نے باقاعدہ طور پر ہیمنت بسوا سرما کے نام کا اعلان کیا۔ اس میٹنگ میں نومنتخب اراکین اسمبلی کے ساتھ این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے لیڈران بھی موجود تھے۔ 12 مئی کو صبح 11 بجے ہیمنت بسوا سرما مسلسل دوسری بار ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔ وزیر اعظم مودی سمیت این ڈی اے کے تمام بڑے لیڈران حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ بی جے پی نے قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کرنے کے لیے پارٹی کے سابق قومی صدر جے پی نڈا اور ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کو مبصر مقرر کیا تھا۔ اس کے لیے آسام بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں باضابطہ طور پر لیڈر کا انتخاب کیا گیا۔ ہیمنت بسوا سرما نے 6 مئی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ فی الحال وہ نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے آسام اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے نے مجموعی طور پر 102 سیٹوں پر جیت حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کر لی۔ ان میں سے بی جے پی نے 82 سیٹیں حاصل کیں، جبکہ اس کی اتحادی جماعتوں آسام گن پریشد (اے جی پی) اور بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ (بی او پی ایف) نے 10-10 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس طرح این ڈی اے نے ریاست میں مستحکم پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined