آسام: ہیمنت بسوا سرما کے خلاف شکایت، اے جے پی امیدوار کی والدہ پہنچیں خواتین کمیشن
2 اپریل کو انتخابی مہم کے دوران ہیمنت بسوا سرما نے دعویٰ کیا تھا کہ سجاتا چودھری نے سوشل میڈیا پر بیف کھانے سے متعلق پوسٹ شیئر کی تھی، کچھ طبقوں کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کیے اور پاکستان کی حمایت کی۔

آسام اسمبلی انتخاب کے دوران سیاسی بیان بازی اب ذاتی الزامات کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ آسام جاتیہ پریشد (اے جے پی) کی امیدوار کُنکی چودھری کی ماں، سُجاتا گرونگ چودھری نے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) میں شکایت درج کرائی ہے۔ 11 اپریل کو درج شکایت میں سجاتا چودھری نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے انتخابی مہم کے دوران ان کے خلاف جھوٹے، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی بیان دیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بیانوں کا مقصد ان کی شبیہ خراب کرنا اور ان کی بیٹی کُنکی چودھری کو سیاسی طور پر نشانہ بنانا تھا۔
واضح رہے کہ 2 اپریل کو انتخابی مہم کے دوران ہیمنت بسوا سرما نے دعویٰ کیا تھا کہ سجاتا گرونگ چودھری نے سوشل میڈیا پر بیف کھانے سے متعلق پوسٹ شیئر کی تھی، کچھ طبقوں کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کیے اور پاکستان کی حمایت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کنکی چودھری کے والدین کے خلاف کارروائی کریں گے۔ ان الزامات کو خارج کرتے ہوئے سجاتا چودھری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ دکھائی گئی تصویر گمراہ کن ہے۔ ان کے مطابق یہ تصویر امریکہ کے ڈینور میں واقع انٹرنیشنل چرچ آف کینبس (آئی سی سی) میں لی گئی تھی، جہاں وہ جس چیز کو پکڑے ہوئی تھیں وہ بیف نہیں بلکہ تکیہ (پلو) تھا۔ انہوں نے آئی سی سی کے ڈائریکٹر اسٹیو برکے کا ایک خط بھی منسلک کیا ہے، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔
شکایت میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان الزامات کے بعد ان کی ذاتی تصاویر، جن میں ان کے نابالغ بیٹے کی تصاویر بھی شامل ہیں، سوشل میڈیا پر بغیر اجازت کے وائرل کی جا رہی ہیں۔ اس سے انہیں آن لائن ٹرولنگ، ہراسانی اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ کئی نامعلوم افراد اور سوشل میڈیا ہینڈلس نے ان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے مارفڈ تصاویریں اور اے آئی سے تیار کردہ مواد بھی شیئر کیے ہیں، جس سے ان کے خاندان کو ذہنی تناؤ اور عزت و وقار کو نقصان پہنچا ہے۔
سجاتا چودھری نے قومی کمیشن برائے خواتین سے مطالبہ کیا ہے اس معاملے کا فوراً نوٹس لیا جائے، گمراہ کن اور قابل اعتراض مواد کو سوشل میڈیا سے ہٹایا جائے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے اور اپنے نابالغ بیٹے کی پرائیویسی اور سیکورٹی یقینی بنانے کی بھی اپیل کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایک عام شہری ہیں اور سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ صرف اس لیے تنازعہ میں آئی ہیں کیونکہ ان کی بیٹی کنکی چودھری گوہاٹی سنٹرل سیٹ سے انتخاب لڑ رہی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔