بنگال کے نئے وزیر اعلیٰ ’سب کے لیے حکومت‘ کے آئینی حلف کی پاسداری کریں: صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی

مولانا محمود اسعد مدنی نے واضح کیا کہ ’’جمعیۃ علماء ہند کسی بھی حکومت کی سیاسی مخالفت نہیں کرتی۔ جہاں حقیقی عوامی فلاح، ترقی اور انصاف نظر آئے گا، جمعیۃ علماء ہند اس کا خیر مقدم کرے گی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>مولانا محمود مدنی /&nbsp; پریس ریلیز</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نئی دہلی، 10 مئی 2026: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مغربی بنگال کے نومنتخب وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کو متوجہ کیا ہے کہ وہ گورنر اور ریاست کے عوام کے سامنے لیے گئے اپنے آئینی حلف کی مکمل پاسداری کریں اور بلا تفریق تمام شہریوں کے ساتھ مساوی انصاف کو یقینی بنائیں۔ مولانا مدنی نے یاد دلایا کہ حلف برداری کے وقت انہوں نے ایشور کو گواہ بنا کر یہ عہد کیا ہے کہ ’’میں آئین اور قانون کے مطابق بلا خوف یا رعایت، بغیر کسی محبت یا عداوت کے، تمام طبقات (All Manner of People) کے ساتھ انصاف کروں گا۔‘‘

مولانا مدنی نے کہا کہ یہ آئینی عہد محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ اپنے منصب کے تئیں قانونی ذمہ داری کا اظہار ہے۔ اس عہد کے بغیر نہ کوئی شخص وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے اور نہ ہی اس منصب پر برقرار رہنے کا اخلاقی جواز رکھتا ہے۔ مولانا مدنی نے یہ بات وزیر اعلیٰ کے اس سابقہ بیان کے تناظر میں کہی جس میں انہوں نے برملا اظہار کیا تھا کہ وہ ’صرف ہندوؤں کے لیے کام کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات بھارت کے سیکولر تانے بانے، جمہوری اقدار اور آئین سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کسی ایک مذہب یا سیاسی گروہ کی جاگیر نہیں بلکہ پورے عوام کی امانت ہے جس میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور تمام طبقات شامل ہیں۔


انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نعرہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا مذہبی بنیادوں پر امتیاز کی بات کرنا اس دعوے  کے خلاف نہیں ہے۔ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ ملک کے وزیر اعظم اس کا جواب ضرور دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی ’سب کا وشواس‘ چاہتی ہے تو اسے اپنی زبان اور عمل دونوں میں آئینی غیر جانب داری، مساوات اور انصاف کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

مولانا مدنی نے کہا کہ بنگال کے عوام نفرت انگیز سیاست یا مذہبی تقسیم نہیں بلکہ حقیقی ترقی اور مؤثر حکمرانی چاہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت صرف مسلمانوں کے لیے کام کرے، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ پورے بنگال اور تمام شہریوں کے لیے کام کرے۔ عوام کو صاف پانی، صاف فضا، بہتر سڑکیں، معیاری تعلیم، روزگار، سرمایہ کاری، کسانوں اور چھوٹے تاجروں کے لیے انصاف، امن و قانون کی بالادستی اور غریبوں کے وقار کا تحفظ درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقی نہ مسجد اور مندر کے دروازے پر رکتی ہے اور نہ بنیادی سہولیات مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی جا سکتی ہیں۔ اگر ترقی واقعی 80 فیصد عوام تک پہنچے گی تو باقی 20 فیصد بھی اس سے محروم نہیں رہیں گے۔ جب صاف ہوا چلے گی تو وہ صرف ہندوؤں کی سانسوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ہر شہری اس سے فائدہ اٹھائے گا۔


مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند کسی بھی حکومت کی سیاسی مخالفت نہیں کرتی۔ جہاں حقیقی عوامی فلاح، ترقی اور انصاف نظر آئے گا، جمعیۃ علماء ہند اس کا خیر مقدم کرے گی۔ تاہم اگر حکمرانی فرقہ وارانہ امتیاز، نفرت یا آئینی اصولوں سے انحراف کی بنیاد پر ہوگی تو ملک کے شہریوں اور اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جمہوری اور قانونی راستوں کے ذریعے انصاف اور آئینی تحفظ حاصل کریں۔مولانا مدنی نے ہندستان کی وحدت، تکثیریت، مذہبی ہم آہنگی اور آئینی نظام کے تئیں جمعیۃ علماء ہند کے تاریخی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم ملک کے ہر شہری کے حقوق، عزت اور مساوی انصاف کے تحفظ کے لیے ہمیشہ جمہوری، پرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔