’آپ کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں...‘، ایرانی سفارت خانے کا کیرولین لیوٹ کو بیٹی کی پیدائش پر طنز
ایرانی سفارت خانہ نے لکھا کہ ’’ہر بچے کی ماں کو گود ملنی چاہیے۔ ہر ماں کو اب بھی اپنے بچے کو گود میں لینے کا موقع نہیں ملتا۔ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے جسے دنیا کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ حال ہی میں دوسری بار ماں بنی ہیں۔ کیرولین نے ایک بیٹی کو جنم دیا ہے، جس کا نام انہوں نے ویویانا عرف ویوی رکھا ہے۔ انہیں سوشل میڈیا پوسٹ پر ڈھیروں مبارکبادیں موصول ہوئیں۔ دوسری جانب ’مدر ڈے‘ کے موقع پر مختلف ممالک میں ایرانی سفارت خانوں نے کیرولین کی اس پوسٹ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کے ہاتھ معصوم بچوں کے خون سے رنگے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ امریکی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’یکم مئی کو ویویانا عرف ویوی ہمارے خاندان میں شامل ہوئی اور ہمارا دل فوراً محبت سے بھر گیا۔ وہ بالکل ٹھیک اور صحت مند ہے اور اس کا بڑا بھائی اپنی نئی چھوٹی بہن کے ساتھ خوشی خوشی زندگی کے نئے ڈھانچے میں ڈھل رہا ہے۔ ہم اپنے خوشگوار نو زائیدہ بچے کی دنیا میں ہر لمحے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ میری حمل کے دوران دعائیں کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ، میں نے واقعی اس پورے تجربے کے دوران ان دعاؤں کو محسوس کیا۔‘‘
انڈونیشیا میں ایرانی سفارت خانہ نے کیرولین کی ’ایکس‘ پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہر بچے کی ماں کو گود ملنی چاہیے۔ ہر ماں کو اب بھی اپنے بچے کو گود میں لینے کا موقع نہیں ملتا۔ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے جسے دنیا کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
حیدرآباد میں واقع ایرانی سفارت خانے نے میناب اسکول پر ہونے والے حملے کے حوالے سے کیرولین کی پوسٹ پر لکھا کہ ’’مبارک ہو! جیسا کہ ایرانی کہتے ہیں، بیٹی اپنے والدین کے لیے خدا کا تحفہ ہوتی ہے۔ میں اس موقع پر آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کی فوج نے میناب اسکول کو 2 بار نشانہ بنایا، جس میں 168 طلبہ جاں بحق ہوئے۔ یہ افسردہ ماں کہتی ہے کہ اس کے بیٹے کا صرف ایک جوتا بچا ہے۔ دکھ کی بات ہے کہ اس کے جسم کا کوئی نشان نہیں ملا۔‘‘
جنوبی افریقہ میں موجود ایرانی سفارت خانے نے لکھا کہ ’’جب آپ کی بچی بڑی ہو کر تاریخ پڑھے گی، تو اسے شرم آئے گی کہ آپ نے تاریخ کی سب سے زیادہ نفرت انگیز حکومتوں میں سے ایک کی خدمت کی۔ آپ کے ہاتھ میناب کے بچوں کی طرح کئی معصوم بچوں کے خون سے رنگے ہیں۔‘‘ اسی طرح آرمینیا کے ایرانی سفارت خانے نے لکھا کہ ’’آپ کو مبارک ہو۔ بچے معصوم اور پیارے ہوتے ہیں۔ میناب کے اسکول میں آپ کے باس نے جن 168 بچوں کو مارا، اور آپ نے اسے درست قرار دیا، وہ بھی بچے ہی تھے۔ جب آپ اپنے بچے کو چومیں، تو ان بچوں کی ماؤں کے بارے میں ضرور سوچیں۔‘‘
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔ ایران کے سرکاری براڈکاسٹر آئی آر آئی بی اور مقامی میڈیا کے مطابق اس حملے میں میناب میں ایک ایرانی ایلیمنٹری اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے اس حملے میں کم از کم 175 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی تھی، جن کی عمریں 7 سے 12 سال کے درمیان تھیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
