تلنگانہ کی کانگریس حکومت میں کسانوں کی خود کشی کی شرح صفر...سہیل انجم
تلنگانہ کی ریونت ریڈی حکومت نے کسانوں کے لیے قرض معافی، ریتھو بھروسہ اور دیگر فلاحی اسکیموں کے ذریعے کسانوں کی خودکشی کے واقعات صفر تک پہنچا دیے۔ این سی آر بی رپورٹ میں اس کا انکشاف ہوا ہے

ہندوستان میں کسانوں کی خودکشی کا مسئلہ ہمیشہ سے انتہائی سنگین رہا ہے۔ حکومتوں کی جانب سے ان کی فلاح و بہبود کی کوششیں کی جاتی رہیں تاکہ کسان خودکشی نہ کریں۔ لیکن یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس کی متعدد وجوہات میں جن میں فصلوں کی لاگت کا نہ نکلنا اور قرضوں کا بوجھ اہم ہے۔ لیکن تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے جس کی قیادت ریونت ریڈی کر رہے ہیں اس سنگین مسئلے پر قابو پا لیا ہے۔ حالانکہ اس حکومت کو بنے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں۔ یہ حکومت دسمبر 2023 میں قائم ہوئی تھی۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) نے حال ہی میں ملک میں ہونے والے جرائم سے متعلق اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تلنگانہ حکومت میں کسانوں کی خود کشی کے واقعات بند ہو گئے ہیں۔ جبکہ دیگر ریاستوں میں اب بھی یہ واقعات ہو رہے ہیں۔ تلنگانہ کی مثال یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اگر حکومتیں اس مسئلے پر قابو پانے میں سنجیدہ ہو جائیں تو خودکشی کے واقعات کو روک پانا مشکل نہیں ہوگا۔
دراصل ریونت ریڈی حکومت نے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اسکیمیں چلا رکھی ہیں جن سے کسانوں کو بے انتہا فائدہ پہنچتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہاں زرعی سیکٹر کے افراد کی خود کشی کی شرح صفر پر آگئی ہے۔ حکومت کسانوں کو سرمایہ کاری میں مدد دیتی ہے تاکہ بیج، کھاد اور آبپاشی میں سپورٹ مل سکے۔ اس نے اہل کسانوں کو بارہ ہزار سالانہ دینے کی اسکیم چلا رکھی ہے۔ یہ رقم پہلے دس ہزار سالانہ تھی۔ اس کا مقصد کسانوں کے علاوہ بے زمین کسانوں کو مدد دینا بھی ہے۔ ریونت ریڈی حکومت نے فی کسان خاندان دو لاکھ روپے کا قرض معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے 25 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے جنھیں اپنے قرضوں کی ادائیگی میں آسانی ہوئی ہے۔ قرضوں کی معافی مرحلہ وار کی گئی ہے۔
ریڈی حکومت کی ایک اسکیم بے زمین کسانوں کی مدد ہے۔ حکومت نے ان کے لیے ’اندرما آتھمیا بھروسہ‘ اسکیم شروع کی ہے۔ اس کے تحت بے زمین کسانوں کو فی خاندان بارہ ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ حکومت نے ’اچھے چاول‘ کی پیداوار میں اضافے کی بھی اسکیم چلائی ہے۔ اس کے تحت وہ کم سے کم سہارا قیمت پر پانچ سو روپے فی کوئنٹل بونس دیتی ہے۔ خاص طور پر ایس سی ایس ٹی کی فلاح و بہبود کے لیے 2025 میں ایک نئی اسکیم شروع کی گئی ہے۔ اس کا مقصد آبپاشی کے لیے سولر پاور پمپ سیٹ فراہم کرنا ہے۔ اس سے چھ لاکھ ایکڑ اراضی کی آبپاشی ہو سکے گی۔ اس کا ایک مقصد سبز انقلاب کو جاری رکھنے کو یقینی بنانا ہے۔
اگر بے موسم بارش اور سیلاب سے زراعت کو نقصان ہوتا ہے تو اس کے ازالے کے لیے دس ہزار روپے فی ایکڑ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ دھان اور مکئی کی سرکاری خرید کی جاتی ہے جس کی ادائیگی براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں کر دی جاتی ہے۔حکومتی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں کسانوں نے سرکاری اقدامات کے ذریعے رعایتی نرخوں پر زرعی مشینری حاصل کی ہے۔ یہ اقدامات دیہی معیشت میں براہ راست سرمایہ کاری کی حمایت کی جانب ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا مقصد نجی ساہوکاروں پر انحصار کم کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے 22 مارچ سے کسانوں کے لیے ”ریتھو بھروسہ“ فنڈ کی تقسیم کا اعلان کیا جس میں 9000 کروڑ روپے (12000 روپے فی ایکڑ سالانہ) جمع کیے جائیں گے۔ حکومت نے 25 لاکھ سے زیادہ خاندانوں کو فائدہ پہنچانے والے دو لاکھ روپے کے زرعی قرض کی معافی کو بھی مکمل کیا اور اراضی کے مسائل کو حل کرنے کا اعلان کیا۔
حیدرآباد میں ریاستی حکومت کے تلگو سال نو ’یوگادی‘ کی مناسبت سے منعقدہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ ریونیو جلد ہی ”سادا بیناما“ (سادہ کاغذ پر غیر رجسٹرڈ اراضی لین دین) کے ذریعہ خریدی گئی زرعی زمینوں سے متعلق مسائل کو حل کرے گا۔ 15 مارچ کو ریاستی حکومت نے اعلان کیا کہ ’ریتھو بھروسہ‘ اسکیم کے تحت کسانوں کے بینک کھاتوں میں 9000 کروڑ روپے جمع کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ریاستی حکومت کسانوں کی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے کہا کہ حکومت نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اس اسکیم کے تحت 18000 کروڑ روپے تقسیم کیے ہیں جس میں ہر سال 12000 روپے فی ایکڑ فراہم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے دو لاکھ روپے تک کے زرعی قرض کی معافی کی اسکیم کو مکمل کیا ہے جس سے 25 لاکھ سے زیادہ خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ جہاں تلنگانہ نے آئی ٹی سیکٹر اور صنعت کاری میں ترقی دیکھی ہے وہیں ریاست کی 70 فیصد آبادی روزی روٹی کے لیے زراعت پر انحصار کرتی ہے۔ مرکز کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ تلنگانہ کے کسانوں پر قرضوں کا سب سے کم بوجھ ہے۔
مذکورہ تفصیلات اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ اگر حکومتیں مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہوں تو انھیں حل کیا جا سکتا ہے۔ ان مسائل میں کسانوں کے مسائل بھی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سی حکومتیں اعلانات تو کر دیتی ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرتیں۔ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے ابتدا ہی میں کسانوں کی آمدنی دو گنا کرنے اور کسانوں کے قرضے معاف کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس معاملے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ حکومت ان کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے تین متنازع زرعی قوانین لے کر آگئی جس سے کسانوں کو فائدے کے بجائے نقصان ہوتا۔ کسانوں نے ایک سال سے زائد عرصے تک احتجاجوں اور دھرنوں کی مدد سے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ متنازع قوانین واپس لے۔
یہ بھی پڑھیں : دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں...سہیل انجم
جہاں تک کسانوں کی خودکشی کے واقعات کی بات ہے تو این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں سالانہ دس ہزار سے گیارہ ہزار تک کسان خودکشی کرتے ہیں۔ ان میں کسانوں کے علاوہ زرعی مزدور بھی ہوتے ہیں۔ ملک میں خودکشی کے جو مجموعی واقعات ہوتے ہیں ان میں کسانوں کی خودکشی چھ سے سات فیصد ہے جو کہ بہت بڑی تعداد ہے۔ 2023 میں کسانوں کی خودکشی کے 10786 واقعات پیش آئے جن میں مہاراشٹر سرفہرست ہے۔ جن لوگوں نے خودکشی کی ان میں 4690 کسان ہیں اور 6096 کھیتیہر مزدور یا زرعی مزدور ہیں۔ مہاراشٹر میں جن کسانوں نے خودکشی کی وہ کسانوں کی مجموعی خودکشی کا 38.5 فیصد ہے۔ جبکہ کرناٹک کا فیصد 22.5 ہے۔ آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش اور تمل ناڈو میں بھی بڑی تعداد میں خودکشی کے واقعات ہوئے ہیں۔
تاہم 2024 میں 2023 کے مقابلے میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات نسبتاً کم ہوئے ہیں۔ 2023 میں 10786 کسانوں نے خودکشی کی تھی جبکہ 2024 میں یہ تعداد گھٹ کر 10546 پر آگئی۔ پورے ملک میں 2024 میں 170746 افراد نے خودکشی کی تھی۔ این سی آر بی کے حالیہ اعداد و شمار سے سامنے آنے والا ایک تشویشناک رجحان زرعی مزدوروں کی خودکشی کے واقعات ہیں جن کی زندگی یومیہ مزدوری پر منحصر ہے۔ خودکشی کرنے والے مزدوروں کی تعداد زیادہ ہے۔ مزدوروں کی خودکشی کے واقعات کم از کم 56 فیصد ہیں۔ یہ تعداد پانچ سال میں دوسری بڑی تعداد ہے۔ 2020 میں ان میں خودکشی سے ہونے والی اموات زرعی سیکٹر میں ہونے والی کل اموات کا 47.75 فیصد تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : مظلومین مالیگاؤں کب تک انصاف سے محروم رہیں گے؟...سہیل انجم
واضح رہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق زرعی سیکٹر میں سرگرم افراد کی مجموعی تعداد 26 کروڑ ہے۔ جن میں سے 12 کروڑ فصل اگانے والے ہیں اور 14 کروڑ زرعی مزدور ہیں۔
بہرحال تلنگانہ کی ریونت ریڈی حکومت نے ایک مثال قائم کی ہے۔ تمام ریاستی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس مثال سے ترغیب حاصل کریں اور اپنے یہاں بھی کسانوں کی فلاح و بہبود کی اسکیمیں نہ صرف شروع کریں بلکہ ان کو سنجیدگی کے ساتھ عملی جامہ بھی پہنائیں۔ اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو کسانوں کی خودکشی کے واقعات جس طرح تلنگانہ میں صفر پر آگئے ہیں اسی طرح دیگر ریاستوں میں بھی آسکتے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
