
RAMESHWAR GAUR
آسام میں جمعرات کو 126 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ کا عمل شام 6 بجے انجام پا گیا۔ اس دوران 2 مقامات پر تشدد کے سنگین واقعات پیش آئے۔ اس معاملہ میں پولیس افسران نے 7 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق صبح 7 بجے تیزی سے ووٹنگ شروع ہوئی اور کئی پولنگ مراکز پر معمولی جھڑپیں دیکھنے کو ملیں۔ ان جھڑپوں میں کچھ لوگوں کو معمولی چوٹیں آئیں، حالانکہ بعد میں حالات پر قابو پا لیا گیا۔
Published: undefined
انسپکٹر جنرل آف پولیس اکھلیش کمار سنگھ نے بتایا کہ اسمبلی انتخاب کے لیے صبح 7 بجے پولنگ شروع ہونے سے کچھ گھنٹے قبل بدھ کی رات کو تامُل پور اور شیوساگر میں تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں کل رات تامُل پور میں 2 گروپ کے درمیان جھڑپ کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس فوری طور پر موقع پہنچی اور بھیڑ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ جب بھیڑ بے قابو ہو گئی تو اسے منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولی چلائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ موقع سے 4 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
Published: undefined
آئی جی نے بتایا کہ ایک دیگر واقعہ میں شیوساگر میں ایک سیاسی پارٹی کے 2 سے 3 اراکین پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وہاں سے 3 لوگوں کو حراست میں لیا اور اس کی تحقیقات جاری ہے۔ شیوساگر سیٹ سے دوبارہ انتخاب لڑ رہے اکھل گوگوئی نے الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کے پیچھے بی جے پی کے امیدوار کُشل ڈوواری کا ہاتھ تھا۔ سوشل میڈیا پر سلسلے وار پوسٹ میں گوگوئی نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 2 لوگ زخمی ہوئے اور ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا۔ بوڈولینڈ پردیشک پریشد (بی ٹی سی) کے چیف ایگزیکٹو ممبر ہاگراما موہیلاری نے کہا کہ تفصیلی تحقیقات کے بعد ہی تامُل پور میں ہوئی جھڑپ کی اصل وجہ پتا چلے گی۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ 126 رکنی اسمبلی کے لیے ہوئی پولنگ میں 722 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہو گئی ہے، جس کے نتائج 4 مئی کو آئیں گے۔ پولنگ کے دوران شری بھومی، گولاگھاٹ اور ناگاؤں اضلاع کے کئی پولنگ مراکز پر چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوئیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ زیادہ تر جھڑپیں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے ہوئیں، جس میں لوگ قطار توڑنے کو لے کر آپس میں لڑ پڑے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پاتھرکنڈی، میراپانی اور راہا جیسے مقامات پر کچھ پولنگ مراکز پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined