قومی خبریں

الانکر اگنی ہوتری کے یرغمال بنائے جانے کے الزام سے ہنگامہ

بریلی کے سٹی مجسٹریٹ الانکر اگنی ہوتری نے الزام لگایا کہ انہیں ڈی ایم کے دفتر میں یرغمال بنا ئے جانے کا فون آیا تھاجس کے بعد انہوں نے خود کو بچایا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ سوشل میڈیا</p></div>

تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

 

بریلی کے ضلع مجسٹریٹ  (ڈی ایم)اویناش سنگھ نے سٹی مجسٹریٹ الانکر اگنی ہوتری کو یرغمال بنائے جانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کئی دیگر عہدیداروں کی موجودگی میں انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ بات چیت 45 منٹ تک جاری رہی جس کے دوران سٹی مجسٹریٹ کے استعفیٰ کی وجہ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔

Published: undefined

بریلی سٹی مجسٹریٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد الانکر اگنی ہوتری نے سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈی ایم کے دفتر میں یرغمال بنانے کے لئے فون آ یا تھا ۔ الانکر اگنی ہوتری نے کہا، "ضلع مجسٹریٹ اویناش سنگھ نے مجھے بحث کے لیے بلایا، میں وہاں گیا، اور بار ایسوسی ایشن کے سکریٹری دیپک پانڈے بھی میرے ساتھ تھے، لیکن انہیں باہر انتظار کرنے کو کہا گیا۔ میں ڈی ایم اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ اکیلا بیٹھا بات چیت کرتا  رہا۔ اس دوران، مجھے بار بار لالچ دیا گیا اور چھٹی لینے اور آرام کرنے کو کہا گیا۔ اسی دوران، ڈی ایم کو لکھنؤ کی طرف سے کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ ۔پنڈت پاگل ہو گیا ، اسے جانے مت دینالیکن میں نے بمشکل بچ کر اپنی جان بچائی۔‘‘

Published: undefined

بریلی کے سٹی مجسٹریٹ الانکر اگنی ہوتری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ کی وجوہات کے طور پر نئے یو سی جی قواعد اور شنکراچاریہ تنازعہ کا حوالہ دیا۔ استعفیٰ دینے والے پی سی ایس افسر الانکر اگنی ہوتری نے اے بی پی نیوز کو بتایا، "یوپی میں برہمن مخالف مہم چل رہی ہے۔"

Published: undefined

شنکراچاریہ تنازعہ 18 جنوری کو شروع ہوا، جس دن ماگھ میلے کا پہلا  ’اسنان‘ یعنی  غسل ہوتا ہے ۔ شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند پالکی میں سنگم جا رہے تھے، جہاں انہیں پولیس نے روک لیا، جس سے تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ اس تنازعہ کو اب برہمنوں کی توہین اور یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف جاری احتجاج سے جوڑ دیا گیا ہے۔

Published: undefined

بریلی کے سٹی مجسٹریٹ الانکر اگنی ہوتری، جنہوں نے استعفیٰ دیا، ایک لمبا خط لکھا ہے، جس میں شنکراچاریہ کی توہین اور یو جی سی کے نئے ضوابط پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے مجسٹریٹ کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور یو جی سی تنازعہ کو لے کر ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔

Published: undefined

15 جنوری کو،یو جی سی ایکویٹی ریگولیشن 2026 نے 2012 میں نافذ کیے گئے پرانے اصول کی جگہ لے لی۔ ذات پات کے امتیاز کی تعریف میں SC/ST کے علاوہ OBC کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی شکایات پر جرمانے یا معطلی جیسی دفعات کو ہٹانے کی مخالفت ہے۔عام زمرہ کا خیال ہے کہ اس قانون کا انہیں نشانہ بنانے کے لیے غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ جھوٹی شکایت درج کرانے والوں کو سزا کا کوئی خوف نہیں ہوگا، اس لیے برہمن، کشتریہ، اور ویشیا ذات کے طلبہ ہمیشہ جھوٹے الزامات سے ڈرتے رہیں گے۔

Published: undefined

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ایس سی ، ایس ٹی یااوبی سی طالب علم کسی عام زمرے(جنرل کیٹیگری) کے طالب علم یا پروفیسر کے خلاف غلط شکایت درج کرائے تو بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس سے قبل جھوٹی یا غلط  شکایات درج کرانے والوں کے خلاف جرمانے اور کارروائی کا انتظام تھا۔ پورا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ عدالت میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں اس قاعدے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Published: undefined