دہلی کی عدالت نے سی بی آئی کو لگائی پھٹکار، راجندر نگر بیسمنٹ میں موت معاملے کی دوبارہ جانچ کا حکم
عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسران ان اہلکاروں کے کردارکی چھان بین کرنے میں ناکام رہے جن کی وجہ سے کوچنگ بیسمنٹ کا غیر قانونی استعمال کرتا رہا۔ حکام کی یہ لاپرواہی بے گناہ شہریوں کی موت کا باعث بنی۔

قومی راجدھانی دہلی کی ایک عدالت نے اولڈ راجندر نگر واقع ایک کوچنگ سینٹر کے غیر قانونی بیسمنٹ میں 2024 میں پانی بھر جانے کی وجہ سے یو پی ایس سی کے 3 امیدواروں کی موت کے معاملے میں سخت موقف اپنایا ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ نے مرکزی جانچ ایجنسی (سی بی آئی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے افسران کے کردار کی دوبارہ گہرائی سے جانچ کرے۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دنیش بھٹ نے متوفی طالب علم نوین ڈالوین کے والد ڈالون سریش کی طرف سے دائر ’پروٹیسٹ پٹیشن‘ (احتجاجی درخواست) کو قبول کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ درخواست گزار کے وکیل، ابھیجیت آنند نے عدالت میں دلیل دی کہ سی بی آئی کے تفتیشی افسر نے اس معاملے میں ’آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تفتیش‘ نہیں کی اور بڑے چہروں کو بچانے کی کوشش کی گئی۔
اپنے 20 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر، ان اہلکاروں کے کردار کی چھان بین کرنے میں ناکام رہے جن کی وجہ سے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ طویل عرصے تک بیسمنٹ کا غیر قانونی طور پر استعمال کرتا رہا۔ عدالت نے کہا کہ حکام کی یہ لاپرواہی بے گناہ شہریوں کی موت کا باعث بنی۔ عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے صرف قرول باغ زون کے ایک جونیئر انجینئر کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی کسی بھی سینئر افسر کا نام نہ لینے پر شکوک کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ 6 منزلہ یہ بڑی عمارت، جہاں سینکڑوں طلبہ پڑھ رہے تھے، کئی سالوں سے چل رہی تھی۔ یہ ناممکن ہے کہ شہری حکام نے اس پر توجہ نہ دی ہو۔ ان کا فرض ہے کہ وہ قوانین کی خلاف ورزی کی روزآنہ رپورٹ کریں۔
عدالت نے مزید کہا کہ یہ یقین کرنا ناممکن ہے کہ جونیئرانجینئر کے علاوہ کسی بھی سینئرافسر کو بیسمنٹ کے غیر قانونی استعمال کے بارے میں پتا نہیں تھا۔ ریکارڈ کے مطابق جونیئر انجینئر نے ایک تصویر اور نوٹ تو لگایا تھا کہ کوچنگ ضوابط کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تاہم اس نوٹ یا بعد میں جاری کئے گئے ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ میں اس بات کا کوئی بیورا نہیں تھا کہ اصل میں وہاں کیا خلاف ورزی ہورہی تھی۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی سینئر افسر نے جگہ پر موجود خامیوں کا تعین کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے یا تو سائٹ کا معائنہ نہیں کیا یا عدالتی احکامات سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر تفصیلات کو چھپایا۔
26 جون 2024 کو ایک تحریری شکایت درج کرائی گئی تھی کہ کوچنگ سینٹر بیسمنٹ میں غیر قانونی طور سے چل رہا ہے اور وہاں پانی بھرنے کا خطرہ ہے۔ 18 جولائی 2024 کو یہ شکایت اور اس کی یاد دہانی ڈپٹی کمشنر (ایم سی ڈی) کے دفتر میں موصول ہوئی۔ حکام نے 27 جولائی 2024 کو حادثے کے دن تک شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ جج دنیش بھٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صرف سب سے کم درجہ کے ملازم کو قربانی کا بکرا بنانا ناکافی ہے۔ یہ سینئر اور سپروائزری افسران کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ زمین پر قواعد کی پیروی کی جارہی ہے۔ عدالت نے اب سی بی آئی کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام نقطوں کو جوڑ کر بدعنوانی کے زاویوں کی جانچ کرے اور رپورٹ پیش کرے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔