ہم کسانوں کے حقوق اور ایم ایس پی کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آواز اٹھاتے رہیں گے: راہل گاندھی
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر لکھا کہ ’’لوک سبھا میں، میں نے حکومت سے سیدھا سوال پوچھا: 2021 میں کسانوں سے کیا گیا سی2+50 فیصد قانونی ایم ایس پی کا وعدہ اب تک نافذ کیوں نہیں ہوا؟‘‘

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ایک بار پھر کسانوں کی حق کی بات کرتے ہوئے مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر پوسٹ کر لوک سبھا میں ایم ایس پی کے متعلق پوچھے گئے سوال کا ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’لوک سبھا میں، میں نے حکومت سے سیدھا سوال پوچھا: 2021 میں کسانوں سے کیا گیا سی2+50 فیصد قانونی ایم ایس پی کا وعدہ اب تک نافذ کیوں نہیں ہوا؟ حکومت نے جواب دینے سے بچتے ہوئے صرف اپنی پرانی ایم ایس پی پالیسی دہرا دی۔‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے مزید لکھا کہ ’’حکومت نے یہ بھی قبول کیا کہ اس نے ریاستوں پر ایم ایس پی بونس ختم کرنے کا دباؤ ڈالا جسے بغیر کسی دلیل کے ’قومی ترجیحات‘ کے نام درست قرار دیا گیا۔‘‘ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے لکھا کہ ’’ایک اور سنگین سوال – امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں ’غیر تجارتی رکاوٹیں‘ ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ کیا اس کا مطلب ایم ایس پی اور سرکاری خریداری کے نظام کو کمزور کرنا ہے؟‘‘
’فیس بک‘ پوسٹ میں راہل گاندھی نے یہ بھی لکھا کہ ’’حکومت اس سوال سے بچ رہی ہے۔ مودی حکومت کسانوں سے کیا گیا وعدہ تو نبھانا نہیں چاہتی، اپنے مفاد کے لیے وہ ہندوستانی زراعت کو قربان بھی کرنے کو تیار ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کسانوں کی آواز اٹھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہم کسانوں کے حقوق اور ایم ایس پی کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘‘