
الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں زور آور شخصیات کو جاری کیے گئے اسلحہ لائسنس کے معاملے پر سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مکمل جانکاری طلب کر لی ہے۔ عدالت نے برج بھوشن شرن سنگھ، راجا بھیا، دھننجے سنگھ، سشیل سنگھ، ونیت سنگھ سمیت 19 افراد کو جاری اسلحہ لائسنس کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
Published: undefined
جسٹس ونود دیواکر کی بنچ نے ریاستی حکومت اور تمام اضلاع کے پولیس حکام سے اسلحہ لائسنس کے غلط استعمال، مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کو لائسنس جاری کرنے اور عوامی مقامات پر ہتھیاروں کی نمائش کے معاملے پر تفصیلی جواب مانگا ہے۔ عدالت نے مجرمانہ مقدمات کا سامنا کرنے والے تمام لائسنس یافتگان کے درست پتے، ان پر درج مقدمات، لائسنس سے متعلق جانکاری اور سکیورٹی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
یہ حکم سنت کبیر نگر کے رہائشی جے شنکر کی عرضی پر جاری کیا گیا ہے۔ عدالت اسلحہ کلچر کو لے کر تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور اسلحہ لائسنس جاری کرنے، ان کی تجدید اور قواعد کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات طلب کر چکی ہے۔
Published: undefined
اتر پردیش حکومت نے پہلے عدالت کو بتایا تھا کہ پوری ریاست میں دس لاکھ سے زیادہ اسلحہ لائسنس موجود ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6062 ایسے لائسنس یافتگان ہیں جن پر دو یا اس سے زیادہ مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ اس جانکاری کے سامنے آنے کے بعد عدالت نے حیرت کا اظہار کیا تھا۔
عدالت نے ان زور آور شخصیات کی مجرمانہ تفصیلات بھی طلب کی ہیں جن کے نام پہلے سرکاری حلف ناموں میں ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ان افراد کو دی گئی سرکاری سکیورٹی کا مکمل بیورہ بھی مانگا گیا ہے۔
Published: undefined
محکمہ داخلہ کی جانب سے داخل حلف نامے کے مطابق اتر پردیش میں اس وقت کل 10 لاکھ 893 اسلحہ لائسنس یافتگان ہیں جبکہ 23 ہزار 407 لائسنس کے معاملات زیر التوا ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 20 ہزار 960 خاندان ایسے ہیں جن کے پاس ایک سے زیادہ اسلحہ لائسنس موجود ہیں۔
عدالت نے راجا بھیا، عباس انصاری، برج بھوشن شرن سنگھ، دھننجے سنگھ، ونیت سنگھ، برجیش سنگھ، خان مبارک، اجے پرتاپ سنگھ عرف اجے سپاہی، سنجے سنگھ سنگلا، اتل ورما، محمد صاحب، سدھاکر سنگھ، گڈو سنگھ، انوپ سنگھ، للو یادو، بچو یادو اور جگنو والیا سمیت دیگر افراد سے متعلق مکمل تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined