عمر خالد کو دہلی ہائی کورٹ نے دی 3 دنوں کی عبوری ضمانت، جیل کے باہر بے حد سخت پابندیوں کا کرنا پڑے گا سامنا
عبوری ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ خالد کو دہلی میں اپنے مقرر پتہ پر ہی رکنا ہوگا۔ وہ صرف اپنی ماں سے ملاقات کرنے اسپتال جا سکتے ہیں۔ انھیں کسی بھی عوامی مقام پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کی سازش سے جڑے یو اے پی اے معاملہ میں گزشتہ تقریباً 6 سالوں سے جیل میں بند عمر خالد کو آج دہلی ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی۔ جے این یو کے سابق طلبا لیڈر عمر خالد کو عدالت نے انسانیت اور اخلاقی بنیاد کو مدنظر رکھتے ہوئے 3 دنوں کی عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
عمر خالد کو یہ راحت اسپتال میں داخل ان کی ماں کے آپریشن کو دیکھتے ہوئے دی گئی ہے۔ انھوں نے عرضی داخل کر عبوری ضمانت کا مطالبہ کیا تھا، جسے عدالت نے قبول کر لیا ہے۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے رِہائی کے ساتھ بے حد سخت پابندیاں بھی نافذ کی ہیں۔ ان کی حفاظت اور معاملہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ان کے موومنٹ کےد ائرے کو پوری طرح محدود کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عبوری ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ خالد کو دہلی میں اپنے مقرر پتہ (گھر) پر ہی رکنا ہوگا۔ وہ صرف اپنی ماں سے ملاقات کرنے اسپتال جا سکتے ہیں۔ انھیں کسی بھی عوامی مقام پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عبوری ضمانت پر باہر آنے کے لیے عمر خالد کو ایک لاکھ روپے کا ضمانتی بانڈ بھی بھرنا ہوگا۔ پورے 3 دن عمر خالد صرف ایک ہی موبائل نمبر کا استعمال کر سکیں گے، جس کی جانکاری جانچ ایجنسی کو دینی ہوگی۔ اس سے قبل ذیلی عدالت نے عمر خالد کی عبوری ضمانت کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا تھا کہ فیملی میں دیگر اراکین بھی ماں کی دیکھ بھال کے لیے موجود ہیں۔ اس کے بعد خالد نے ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ ان کے وکیل نے دلیل دی کہ ماں کی پیچیدہ سرجری کے وقت ایک بیٹے کا ان کے ساتھ ہونا بے حد ضروری ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
