مدارس کی جانچ کا معاملہ: الہ آباد ہائی کورٹ کی انسانی حقوق کمیشن پر سخت تنقید، کہا- ’مسلمانوں کی لنچنگ پر خاموشی کیوں؟‘
الہ آباد ہائی کورٹ نے مدارس کی جانچ کے لیے قومی انسانی حقوق کمیشن کے حکم پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا، مگر بنچ کے ایک جج نے ان ریمارکس سے اختلاف کیا

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے امدادی مدارس کے خلاف جانچ کے لیے قومی انسانی حقوق کمیشن کے احکامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس کے دائرہ اختیار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ ’لائیو لا‘ کی رپورٹ کے مطابق، عدالت نے ابتدائی طور پر کہا کہ کمیشن بادی النظر میں ایسے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے جو اس کے قانونی دائرہ اختیار سے باہر معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم، اسی بنچ کے ایک جج نے ان مشاہدات سے اختلاف کرتے ہوئے الگ رائے پیش کی، جس کے باعث معاملہ مزید اہم ہو گیا ہے۔
یہ معاملہ مدرسہ ٹیچرس ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا، جس میں فروری 2025 میں جاری کیے گئے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت اقتصادی جرائم ونگ کو ریاست کے سینکڑوں امدادی مدارس میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کا اختیار دیا گیا تھا۔ عرضی گزاروں کا مؤقف تھا کہ کمیشن کو اس نوعیت کی جانچ کا حکم دینے کا اختیار حاصل نہیں، خصوصاً اس صورت میں جب معاملہ براہ راست انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق نہ ہو۔
سماعت کے دوران بنچ کے ایک جج نے کمیشن کے کردار پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ جہاں بعض معاملات میں، خصوصاً مسلم برادری کے افراد کے خلاف تشدد یا ہجومی حملوں جیسے واقعات میں کمیشن از خود نوٹس لیتا نظر نہیں آتا، وہیں ایسے معاملات میں سرگرم ہو جاتا ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کوئی عدالتی ادارہ نہیں جو مقدمات کی سماعت کرے، بلکہ اگر ضروری ہو تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرے یا ایف آئی آر درج کروانے کی سفارش کرے۔
عدالت نے انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون 1993 کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کا دائرہ زندگی، آزادی، مساوات اور وقار سے جڑے معاملات تک محدود ہے۔ ایسے میں مدارس کی انتظامی یا مالی بے ضابطگیوں کی جانچ کا حکم دینا بادی النظر میں اس دائرے سے باہر معلوم ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے معاملات کو عوامی مفاد کی عرضی کے ذریعے ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا جا سکتا تھا، جہاں مناسب قانونی جانچ ممکن ہے۔
دوسری جانب، بنچ کے دوسرے جج نے ان ریمارکس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی فریق کو سنے بغیر اس کے کردار پر منفی تبصرہ کیا جائے تو یہ مناسب نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ عدالت کسی فریق کی عدم موجودگی میں بھی حکم جاری کر سکتی ہے، مگر اس نوعیت کے تبصرے کرنے سے قبل تمام متعلقہ فریقین کو سنا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کمیشن عدالت میں پیش نہیں ہوا تھا اور عرضی گزار کی جانب سے بھی اس وقت تفصیلی دلائل نہیں دیے جا رہے تھے، اس لیے ایسے میں کسی ادارے کے کردار پر سخت مشاہدات کرنا مناسب طرز عمل نہیں کہا جا سکتا۔ اس اختلاف کے بعد قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ معاملہ بڑی بنچ کے سپرد کیا جا سکتا ہے تاکہ اس پر واضح قانونی مؤقف سامنے آ سکے۔ فی الحال عدالت نے کمیشن کے حکم پر عائد عبوری روک کو برقرار رکھتے ہوئے کمیشن سے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ معاملہ 11 مئی 2026 کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے، جہاں اس بات کا فیصلہ متوقع ہے کہ آیا کمیشن نے واقعی اپنے اختیارات سے تجاوز کیا یا اس کے اقدامات قانون کے دائرے میں تھے۔