قومی خبریں

غلط رن وے پر اُتر گیا افغانستان کا طیارہ، بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا دہلی ایئرپورٹ، تفتیش جاری

اس سلسلے میں عملے نے بتایا کہ ٹچ ڈاؤن سے 4 ناٹیکل مائل پہلے آئی ایل ایس سگنل غائب ہوگیا تھا۔ ایسی صورتحال میں دو متوازی رن ویز میں فرق کرنا مشکل ہو گیا جس سے پائلٹ الجھن میں پڑ گئے۔

<div class="paragraphs"><p>طیارہ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

طیارہ، تصویر آئی اے این ایس

 

گزشتہ سال 23 نومبر کو دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (آئی جی آئی) پرایک بڑا طیارہ حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ افغانستان کی ایریانا افغان ایئر لائنز کی پرواز اے ایف جی 311  نے مقررہ رن وے 29L  کے بجائے سیدھے رن وے 29R پر لینڈنگ کردی، جو اس وقت ٹیک آف کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ اس دوران اسی رن وے پر ایک اور طیارہ  AIC2243 ٹیک آف کر رہا تھا۔ ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) نے اس واقعے پر اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

Published: undefined

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ رن وے 29R  پر کوئی لینڈنگ اسسٹنس سسٹم فعال نہیں تھا۔ نہ تو انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم (آئی ایل ایس) فعال تھا اور نہ ہی پریسیژن اپروچ پاتھ انڈیکیٹر (پی اے پی آئی) یا اپروچ لائٹس کام کر رہی تھیں۔ اس کے باوجود خراب موسم اور کہرے کی وجہ سے حد بصارت صرف 1200 میٹر تھی جس کی وجہ سے پائلٹ غلطی سے غلط رن وے پر اتر گئے۔

Published: undefined

اس سلسلے میں عملے نے بتایا کہ ٹچ ڈاؤن سے 4 ناٹیکل مائل پہلے آئی ایل ایس سگنل غائب ہوگیا تھا۔ ایسی صورتحال میں دو متوازی رن ویز میں فرق کرنا مشکل ہو گیا جس سے پائلٹ الجھن میں پڑ گئے۔ اے اے آ ئی بی نے یہ بھی واضح کیا کہ پرواز نے ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ اے ٹی سی کی جانب سے بار بار کلیئرنس کے باوجود طیارہ غلط رن وے کی جانب بڑھتا رہا۔

Published: undefined

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ڈیجیٹل فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کا ڈیٹا تو محفوظ رہا لیکن کاک پٹ وائس ریکارڈر کا ڈیٹا اوور رائٹ ہو چکا تھا جس کے نتیجے میں پائلٹوں کی بات چیت  کے بارے میں اہم معلومات ضائع ہو گئیں۔ اے اے آئی بی نے ایوی ایشن سیفٹی کے نقطہ نظر سے اس واقعہ کو انتہائی سنگین قرار دیا اور کہا کہ یہ حادثہ کسی بڑب تہرےب کا باعث بن سکتا تھا۔ معاملے میں تفصیلی جانچ جاری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جاسکے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined