
فائل فوٹو
راجستھان اسٹاف سلیکشن بورڈ، جے پور کی جانب سے اتوارکومنعقدہ ہائر پرائمری اسکول ٹیچر ڈائریکٹ ریکروٹمنٹ امتحان لیول-2 کی دوسری شفٹ میں سوشل اسٹڈیز سبجیکٹ کے امتحان کے دوران کوٹہ ضلع میں ایک خاتون امیدوار کو حجاب پہن کر آنے کی وجہ سے امتحانی مرکز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے وہ امتحان سے محروم رہ گئی۔
Published: undefined
راجستھان میں جاری اساتذہ کی بھرتی کے امتحان کے دوسرے دن لیول 2 کا امتحان دو شفٹوں میں کرایا گیا۔ زیادہ تر سینٹروں پر امتحان بپُرامن ماحول میں منعقد ہوا لیکن ریاست کے کوٹہ کے ایک سینٹر پر حجاب کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا۔ انتظامیہ کے رویئے سے مایوس طالبہ نے وزیر اعلیٰ سے مدد کی درخواست کی ہے۔
Published: undefined
’اے بی پی‘ نیوز کے مطابق راجستھان کے بوندی ضلع کی رہنے والی طالبہ علیشا ہائر پرائمری اسکول ٹیچر ڈائریکٹ ریکروٹمنٹ امتحان لیول-2 میں شرکت کرنے کوٹہ پہنچی تھی۔ اس کا امتحانی سینٹر مہاویر نگر ایکسٹینشن یوجنا واقع تلک سینئر سیکنڈری اسکول تھا۔ طالبہ اور اس کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ داخلے کا عمل مکمل کرنے کے باوجود اسے صرف حجاب پہننے کی وجہ سے امتحانی مرکز میں جانے سے روک دیا گیا۔
Published: undefined
طالبہ کے والد برکت اللہ نے بتایا کہ وہ مقررہ وقت سے پہلے امتحانی سینٹر پہنچ گئے تھے۔ تمام ضروری کاغذات کی جانچ بھی ہوگئی تھی۔ جب علیشا سینٹر کے ہال میں جانے لگی تو سینٹر انتظامیہ نے ڈریس کوڈ کا حوالہ دے کر اسے گیٹ پر ہی روک دیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ علیشا نے شلوار قمیص پہن رکھی تھی اور اس کا سر اسکارف سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے نہ تو برقع پہنا تھا اور نہ ہی کوئی اصول توڑا تھا۔ اس کے ایڈمٹ کارڈ پر بھی اسکارف پہنے ہوئے فوٹو لگا ہے۔ کافی دیر تک تک گزارش کرنے کے باوجود علیشا کو امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ وہ ایک سال سے اس کی تیاری کر رہی تھی۔
Published: undefined
وہیں دوسری طرف انتظامیہ نے طالبہ کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ اے ڈی ایم ایڈمنسٹریشن وریندر سنگھ یادو کے مطابق طالبہ چہرہ ڈھانپ کر امتحان میں شرکت کرنا چاہتی تھی۔ سینٹر پر موجود عملے نے اسے ڈریس کوڈ کے مطابق چہرہ ڈھکنے والا اسکارف اتارنے کو کہا لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس دوران کچھ دیگر امیدواروں نے بھی مخالفت شروع کر دی۔ قواعد کے مطابق امتحانی ہال میں اسکارف پہننے یا چہرہ ڈھکنے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے طالبہ کو اجازت نہیں دی گئی۔
Published: undefined
اس واقعے کے بعد طالبہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ کچھ لوگ اسے امتیازی سلوک کا معاملہ قرار دے رہے ہیں جب کہ کچھ لوگ قواعد پر عمل کرنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ فی الحال معاملہ سرخیوں میں ہے اور ہرطرف اس پر بحث کی جارہی ہے وہیں دوسری طرف متاثرہ طالبہ نے وزیراعلیٰ سے انصاف کرنے کی درخواست کی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined