قومی خبریں

سبریمالہ مندر میں خواتین کے ساتھ تفریق معاملہ پر سماعت کے لیے 9 ججوں کی بنچ تشکیل، 7 اپریل سے ہوگی سماعت

سپریم کورٹ نے سینئر وکیل پرمیشور اور شیوم سنگھ کو امیکس کیوری کی شکل میں مقرر کیا ہے، تاکہ عدالت کو ضروری رہنمائی اور فریقین کی دلیلوں کا تجزیہ فراہم کیا جا سکے۔

سبریمالہ اور سپریم کورٹ
سبریمالہ اور سپریم کورٹ 

سپریم کورٹ کی 99 ججوں کی بنچ 7 اپریل سے مذہبی مقامات پر خواتین کی تفریق سے متعلق معاملوں پر سماعت شروع کرے گی۔ اس معاملہ میں خاص طور سے کیرالہ کے سبریمالہ مندر سے جڑے ایشوز پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ سبھی فریقین اپنی دلیلیں تحریری شکل میں 14 مارچ تک جمع کریں۔ مرکز کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ سبریمالہ تنازعہ سے متعلق فیصلہ پر تجزیہ کی حمایت کرتے ہیں۔

Published: undefined

سبریمالہ مندر میں خواتین کے ساتھ تفریق معاملہ پر سماعت کے لیے 9 ججوں کی جو بنچ تشکیل دی گئی ہے، اس میں چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وپُل ایم پنچولی شامل ہیں۔ آج ہوئی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سینئر وکیل پرمیشور اور شیوم سنگھ کو امیکس کیوری کی شکل میں مقرر کیا ہے، تاکہ عدالت کو ضروری رہنمائی اور فریقین کی دلیلوں کا تجزیہ فراہم کیا جا سکے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ سماعت 22 اپریل تک پوری کی جائے گی۔

Published: undefined

سبریمالہ معاملہ پر فیصلہ کے تجزیہ کی حمایت کرنے والوں فریقین کے لیے کرشن کمار سنگھ کو نوڈل کاؤنسل مقرر کیا گیا ہے، جبکہ فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ششوتی پری کو نوڈل کاؤنسل بنایا گیا۔ یہ معاملہ اس لیے پھر سامنے آیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ پیر کو 2018 کے فیصلہ سے جڑے ریویو اور رِٹ عرضیوں پر غور کرنے والا ہے۔ اس فیصلہ میں ہر عمر کی خواتین کو بھگوان ایپّا کے مندر میں داخلہ کی اجازت دی گئی تھی۔ اپوزیشن کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت کو عدالت میں جانے سے قبل عوام کو اپنا رخ صاف صاف بتانا چاہیے۔ اس کا الزام ہے کہ حکومت اس حساس معاملہ پر اب تک تذبذب والی حالت میں ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ 11 مئی 2020 کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 5 ججوں کی بنچ محدود جائزہ قوتوں کے تحت قوانین کے سوالوں کو بڑے بنچ کو بھیج سکتی ہے۔ 2018 کے سبریمالہ فیصلہ نے سبھی عمر کی خواتین کو مندر میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے مذہبی آزادی اور آئین کے آرٹیکل 25 و 26 کے دائرے پر 7 اہم سوالات بھی تیار کیے ہیں۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مذہبی گروپ یا طبقہ کی روایات کو کسی دیگر شخص کے ذریعہ مفاد عامہ کے ذریعہ سے چیلنج پیش کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ سبریمالہ معاملہ کے علاوہ بنچ نے مسجدوں اور درگاہوں میں مسلم خواتین کے داخلہ اور پارسی خواتین کے ’اَگیاری‘ (پاکیزہ اَگنی استھل) میں داخل ہونے سے جڑے ایشوز کو بھی بڑی بنچ کے سامنے بھیجا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined