
مرکزی وزارت قانون نے جمعہ (13 فروری) کو پارلیمنٹ میں بتایا کہ گزشتہ 10 سالوں میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے آفس کو موجودہ ججوں کے خلاف 8360 شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ معلومات جمعہ کو لوک سبھا میں دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کے رکن پارلیمنٹ متھیشورن وی ایس کے ایک سوال کے تحریری جواب میں دی گئی۔ پارلیمنٹ نے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف موصول بدعنوانی، جنسی زیادتی یا دیگر سنگین بے ضابطگیوں سے متعلق شکایتوں کی فہرست طلب کی تھی۔
Published: undefined
سپریم کورٹ سے موصول ڈیٹا کے مطابق وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے جواب دیا کہ 2025-2016 کے درمیان 8360 شکایتیں موصول ہوئیں۔ متھیشورن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ان شکایتوں پر کوئی کارروائی کی گئی۔ حالانکہ وزارت قانون کے جواب میں اس پہلو پر توجہ نہیں دی گئی، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ شکایتوں پر کی گئی کارروائی کا کوئی ریکارڈ کیوں نہیں تھا۔
Published: undefined
پارلیمنٹ میں ایک اور سوال یہ اٹھایا گیا کہ مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ کی طرف سے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف موصول بدعنوانی، جنسی زیادتی یا دیگر سنگین بے ضابطگیوں سے متعلق شکایتوں کا ریکارڈ یا ڈیٹا بیس بنائے رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کسی سسٹم کے بارے میں معلوم ہے۔ جواب میں صرف اتنا کہا گیا کہ ہندوستان کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اِن-ہاؤس پروسیزر کے حساب سے ججوں کے خلاف شکایتیں لینے کے قابل ہیں۔ ہائیر جوڈیشری کے اراکین کے خلاف سنٹرلائزڈ پبلک گریونس ریڈرس اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (سی پی جی آر اے ایم ایس) یا کسی اور طریقے سے موصول شکایتیں سی جے آئی یا متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجی جاتی ہیں۔
Published: undefined
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے متھیشورن کے اس سوال کا بھی جواب نہیں دیا کہ کیا حکومت ہائیر جوڈیشری کے اراکین کے خلاف شکایتوں کی منظم ریکارڈنگ، مانیٹرنگ اورجوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے گائیڈلائن جاری کرنے یا اقدامات کرنے کا سوچ رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined