قومی خبریں

’سازش کے تحت درج ہوئے 350 مقدمات‘، اعظم خان کی حمایت میں سماجوادی پارٹی کے کارکنان کا دہلی میں مظاہرہ

سابق رکن اسمبلی محمد ارشد خان نے کہا کہ ’’2019 میں تمام سازشوں کے باوجود اعظم خان کو کامیابی ملی تھی۔ آئندہ چند ماہ میں ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تقریباً 350 مقدمات درج کر دیے گئے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>عظم خان کی حمایت میں سماجوادی پارٹی کے کارکنان کا دہلی میں مظاہرہ، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

عظم خان کی حمایت میں سماجوادی پارٹی کے کارکنان کا دہلی میں مظاہرہ، تصویر/آئی اے این ایس

 

اتر پردیش کے سابق وزیر اعظم خان کی حمایت میں سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے کارکنان نے اتوار (20 ستمبر) کو دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی کارکنان نے اعظم خان کی رہائی اور ان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ سماجوادی پارٹی کے قومی سکریٹری اور جونپور سے سابق رکن اسمبلی محمد ارشد خان کی قیادت میں اتوار کو پارٹی کارکن جنتر منتر پہنچے۔ محمد ارشد خان نے الزام عائد کیا کہ انہیں جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کرنے سے روکا گیا۔ اس کے بعد سماجوادی پارٹی کے کارکنان نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر علامتی احتجاج کیا۔

محمد ارشد خان نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس مظاہرے کی اجازت تھی، لیکن پولیس نے اچانک اسے منسوخ کر دیا۔ ہم لوگ یہاں مظاہرہ کرنے پہنچے تو پولیس نے چاروں طرف بیریکیڈنگ کر کے راستہ روک دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 2019 میں تمام سازشوں کے باوجود اعظم خان کو کامیابی ملی تھی۔ آئندہ چند ماہ میں ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تقریباً 350 مقدمات درج کر دیے گئے۔ اتنی بڑی تعداد میں مقدمات درج ہونا سرکاری سازش کا ہی نتیجہ تھا۔ اعظم خان اور ان کے خاندان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

محمد ارشد خان نے یہ بھی کہا کہ رامپور کی جوہر یونیورسٹی جائز طریقے سے بنی ہوئی ہے، لیکن 3 ماہ پہلے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا نوٹس دے دیا گیا۔ یہ نوٹس غلط طریقے سے دیا گیا۔ مطالبہ ہے کہ انہدام کا نوٹس واپس لیا جائے۔ احتجاج کے دوران سماجوادی پارٹی رہنما وزیر اعظم کے نام ایک میمورنڈم بھی لے کر پہنچے۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ ’’یہ بات سب کو معلوم ہے کہ 2019 میں محض 3 سے 4 ماہ کی مختصر مدت میں اعظم خان، عبداللہ اعظم خان اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تقریباً 350 مجرمانہ مقدمات درج کیے گئے۔ ایک ہی خاندان کے خلاف اتنے کم وقت میں اتنی بڑی تعداد میں مقدمات درج ہونا پہلی نظر میں سیاسی انتقام اور انتظامی اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا کرتا ہے۔ اس سے یہ شبہ مزید گہرا ہوتا ہے کہ کیا اتنے مقدمات حقیقی جرائم پر مبنی ہیں یا سیاسی مخالفت کی قیمت وصول کرنے کے لیے درج کیے گئے ہیں؟‘‘

میمورنڈم میں یہ بھی لکھا کہ ’’رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ یہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا سوال ہے۔ یہ صرف عمارتوں کا نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق اور روزگار سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس نوٹس کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور حتمی فیصلے تک کسی بھی انہدام کی کارروائی پر روک لگائی جائے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔