
اتراکھنڈ میں جنگلی جانوروں کی دہشت
اتراکھنڈ میں انسانی اور جنگلی جانوروں کا تنازعہ بدستور ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ریاست کے قیام کے بعد سے یہاں اب تک 1,296 افراد جنگلی جانوروں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 6,624 لوگ شدید طور سے زخمی ہوئے ہیں۔ یہ معلومات ریاستی وزیر جنگلات سبودھ انیال نے اسمبلی میں دی ہے۔ یہ معاملہ اسمبلی میں بی جے پی ایم ایل اے برج بھوشن گیرولا کے سوال کے جواب میں اٹھایا گیا۔ وزیر جنگلات نے کہا کہ ریاستی حکومت انسانی و جنگلی حیات کے تصادم کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال جنگلی جانوروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو سرکاری ملازمت دینے کا کوئی التزام نہیں ہے، البتہ متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
Published: undefined
وزیر جنگلات نے بتایا کہ اس سے قبل جنگلی جانوروں کے حملوں میں موت ہونے پر4 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جاتا تھا۔ بعد میں اس رقم کو بڑھا کر 6 لاکھ روپے کر دیا گیا اور اب اسے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض صورتوں میں زخمیوں کو معاوضہ بھی دیئے جانے کا بندوبست ہے۔
Published: undefined
وزیر نے کہا کہ انسان اور جنگلی جانوروں کے تصادم کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں باقاعدہ طور سے گشت کر رہے ہیں اور فوری کارروائی کے لیے کوئیک رسپانس ٹیم (کیو آر ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ جنگلی جانروں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے آبادی والے علاقوں میں پنجرے بھی نصب کیے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پرانھیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا تا ہے۔ جنگلات سے متصل دیہاتوں میں بائیو فینسنگ ٹیکنالوجی اور ہیبیٹیٹ انتظام کے ذریعے بھی اس مسئلے کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
Published: undefined
اس دوران کانگریس ایم ایل اے ہریش دھامی نے پتھورا گڑھ ضلع کے دارما اور دیگر علاقوں میں ریچھوں کے ذریعہ گھروں کو نقصان پہنچانے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ملنا چاہیے۔ اس پر وزیر جنگلات نے کہا کہ پہلے ریچھ کے ذریعہ گھروں کو پہنچنے والے نقصان کے معاوضے کا کوئی بندوبست نہیں تھا لیکن اب حکومت نے اس کے لیے بھی معاوضہ دینے کا انتظام کردیا ہے۔
Published: undefined
اسمبلی اجلاس کے دوران ریاست میں جنگلات میں لگی آگ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر جنگلات نے کہا کہ 2024 میں جنگلات میں آگ لگنے کے 1,276 واقعات درج ہوئے جس سے 1,771.66 ہیکٹیر جنگلاتی رقبہ متاثر ہوا تھا۔ ان واقعات کے نتیجے میں 13 لوگوں کی موت بھی ہوئی۔ وزیر جنگلات نے کہا کہ جنگلات میں آگ لگے کے وقعات ریاست کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ انہیں روکنے کے لیے حکومت شرپسندعناصر کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آگ پر نظر رکھنے والوں(فائر واچر) کو تعینات کیا گیا ہے اور گرام پنچایت کی سطح پر کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں تاکہ جنگل کی آگ کو روکنے کے لیے عوام میں بیداری پیدا کی جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined