دہلی کے تمام 34 نگرانی مراکز گزشتہ سال سے زیادہ آلودہ، فوری کارروائی کرے حکومت: اجے ماکن

اجے ماکن نے کہا کہ موسمی اثرات ہٹانے پر دہلی کے تمام فضائی نگرانی مراکز گزشتہ سال سے زیادہ آلودہ ہیں۔ انہوں نے حکومت سے آلودگی کے ذرائع پر کارروائی اور بند گیس نگرانی مراکز بحال کرنے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر اجے ماکن / ویڈیو گریب</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق تازہ تجزیہ جاری کہا کہ موسمی اثرات کو الگ کرنے کے بعد شہر کے تمام 34 فضائی نگرانی مراکز گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ آلودہ پائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال موسمی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کی پالیسیوں کی ناکامی کی عکاس ہے۔

اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تجزیہ 25 جولائی صبح 10 بجے سے 26 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ اس کا موازنہ گزشتہ سال 19 جولائی سے 2 اگست 2025 کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا تاکہ ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ سے نتائج متاثر نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس روز دہلی میں اوسط پی ایم 2.5 کی سطح 32.8 مائیکروگرام فی مکعب میٹر اور پی ایم 10 کی سطح 83.8 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق 44 میں سے 39 فضائی نگرانی مراکز پر پی ایم 2.5 اور 42 میں سے 39 مراکز پر پی ایم 10 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے زیادہ رہی۔

اجے ماکن نے بتایا کہ اس روز گیسوں کی نگرانی کا نظام تقریباً غیر فعال رہا، کیونکہ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے اعداد و شمار صرف 10، سلفر ڈائی آکسائیڈ کے 9 اور کاربن مونو آکسائیڈ کے 11 مراکز سے موصول ہوئے، جبکہ پی ایم کے اعداد و شمار تقریباً 44 مراکز سے دستیاب تھے۔ ان کے مطابق اتنے محدود اعداد و شمار کی بنیاد پر گیسوں کے حوالے سے قابل اعتماد نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے ان کا مکمل تجزیہ صرف پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 پر مبنی ہے اور اس روز مشترکہ فضائی معیار اشاریہ جاری نہیں کیا گیا۔


انہوں نے کہا کہ موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد اور پی ایم 2.5 کی سطح 13 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق بارش، ہوا کی رفتار اور درجہ حرارت جیسے موسمی عوامل کو ریاضیاتی طریقے سے الگ کرنے کے بعد سامنے آنے والے اعداد و شمار شہر کی حقیقی فضائی آلودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

اجے ماکن نے کہا کہ دہلی میں پی ایم 10 کی حقیقی سطح مسلسل 58 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اور مئی سے اب تک ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب یہ گزشتہ سال کی سطح سے نیچے ریکارڈ کی گئی ہو۔ ان کے مطابق یہی مسلسل بگاڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ وقتی نہیں بلکہ مستقل نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مائیکروگرام فی مکعب میٹر کے لحاظ سے وزیرپور کی صورتحال سب سے زیادہ خراب رہی، جہاں پی ایم 2.5 کی سطح 87.8 مائیکروگرام فی مکعب میٹر، یعنی عالمی ادارۂ صحت کی حد سے تقریباً 5.9 گنا زیادہ، جبکہ پی ایم 10 کی سطح 236 مائیکروگرام فی مکعب میٹر، یعنی محفوظ حد سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد وزیرپور میں پی ایم 10 کی سطح 162.2 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے 3.6 گنا زیادہ ہے۔

اجے ماکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی دھول، سڑکوں کی گرد، صنعتوں، گاڑیوں کے اخراج اور حیاتیاتی ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی آلودگی پر فوری سختی کی جائے، وزیرپور جیسے متاثرہ علاقوں میں مقامی سطح پر فوری اقدامات کیے جائیں، بند پڑے گیس نگرانی مراکز دوبارہ فعال کیے جائیں اور تمام فضائی نگرانی مراکز کا حقیقی وقت کا ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب کراتے ہوئے متعلقہ اداروں کی جوابدہی بھی طے کی جائے۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، ’’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔