مظاہروں میں طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کا معاملہ سنگین، واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو: ونود جاکھڑ
این ایس یو آئی گرفتار طلبہ کی رہائی، سیوان فائرنگ، پیلٹ گن اور طاقت کے دیگر استعمال کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کو لے کر تحریک مزید تیز کرے گی۔

این ایس یو آئی نے پیپر لیک کے معاملے، طلبہ کی تحریک پر پولیس کی کارروائی اور بہار کے سیوان میں احتجاجی مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر اے کے-47 سے فائرنگ کے واقعے کو لے کر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ این ایس یو آئی کے صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ تنظیم ملک بھر میں پیپر لیک کے خلاف مسلسل تحریک چلا رہی ہے اور طلبہ کی آواز دبانے کے بجائے حکومت کو قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے ونود جاکھڑ نے کہا کہ این ایس یو آئی نے ملک بھر میں پیپر لیک کے خلاف مضبوطی سے تحریک چلائی۔ جس روز نیٹ پیپر لیک کا معاملہ سامنے آیا، اسی دن سے این ایس یو آئی سڑکوں پر مظاہرے کر رہی تھی۔ تنظیم کی تحریک اور اپوزیشن کے دباؤ کے بعد ہی حکومت نے تسلیم کیا کہ نیٹ کا پیپر لیک ہوا تھا۔ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر کئی مقامات پر واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا۔ جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے خلاف بھی طاقت کا استعمال ہوا، جبکہ بہار میں بھی مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ خواتین کے ساتھ بھی بدسلوکی کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
سیوان میں طلبہ کی تحریک کے دوران اے کے-47 سے فائرنگ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے جاکھڑ نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ اگر مظاہرین طلبہ تھے تو ان کے خلاف ایسے ہتھیاروں کا استعمال کیوں کیا گیا؟ یہ جانچ کا موضوع ہے کہ اس طرح کی کارروائی کا حکم کس نے دیا؟ متعلقہ پولیس اہلکار کو معطل کر دینا کافی نہیں ہے، بلکہ حکم دینے والے افسران کی بھی جوابدہی طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک زخمی طالب علم اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ملک بھر سے طلبہ کے فون آ رہے ہیں اور کئی مقامات پر تحریک میں شامل طلبہ اور ان کے خاندانوں کے ساتھ سخت رویہ اپنائے جانے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ طلبہ کے گھروں پر پولیس کے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کئی کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے۔
این ایس یو آئی کے صدر نے کہا کہ پٹنہ یونیورسٹی کے طلبہ رہنما شانتنو شیکھر سمیت تنظیم کے کئی کارکن جیل میں بند ہیں اور ان کی رہائی کے لیے کوئی پہل نہیں کی جا رہی ہے۔ حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے اور طلبہ کے جمہوری حقوق کا احترام نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پٹنہ جا کر زخمی طلبہ، متاثرہ خاندانوں اور جیل میں بند کارکنان سے ملاقات کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ این ایس یو آئی گرفتار طلبہ کی رہائی، سیوان فائرنگ، پیلٹ گن اور طاقت کے دیگر استعمال کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کو لے کر تحریک مزید تیز کرے گی۔
سیوان فائرنگ معاملے میں حکومت کی جانب سے متعلقہ پولیس اہلکار کو معطل کرنے اور جانچ شروع کیے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ صرف معطلی سے اس معاملے کا حل نہیں نکلے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس بات کا پتا لگایا جانا چاہیے کہ گولی چلانے کا حکم کس سطح سے دیا گیا تھا۔ بغیر کسی حکم کے کوئی بھی پولیس اہلکار اس قسم کی کارروائی نہیں کرتا، اس لیے پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔
این ایس یو آئی کے صدر نے پیپر لیک روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے ٹاسک فورس کی تشکیل اور اینٹی پیپر لیک بل لائے جانے پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں 150 سے زائد پیپر لیک کے واقعات ہو چکے ہیں۔ ایسے میں اب ٹاسک فورس بنانے سے قبل حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ کیا پرانے معاملات میں کارروائی کی گئی اور قصورواروں کو سزا دی گئی؟ 2024 کے مشہور پیپر لیک معاملات کی جانچ اور ملزمان کے خلاف کی گئی کارروائی اب تک واضح نہیں ہے اور حکومت صرف اعلانات کر رہی ہے۔ جاکھڑ نے مزید کہا کہ طلبہ کو آئین کے تحت پرامن احتجاج کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور تنظیم اس اہم مسئلے کو لے کر ملک بھر میں اپنی تحریک جاری رکھے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
