’لاکھوں بچوں کے مستقبل کی بربادی کا جشن‘، دھرمیندر پردھان کے استقبال پر راہل گاندھی کا حملہ
راہل گاندھی نے دھرمیندر پردھان کے استقبال کو لاکھوں طلبہ کے مستقبل کی بربادی کا جشن قرار دیا۔ جبکہ یوتھ کانگریس نے کہا کہ بہار اور یوپی میں احتجاجی نوجوانوں پر بڑی تعداد میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے پارلیمنٹ میں استقبال پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’لاکھوں طلبہ کے مستقبل کی بربادی کا جشن‘ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب انڈین یوتھ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف بہار اور اتر پردیش میں بڑے پیمانے پر پولیس کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ پیپر لیک اور مختلف امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر طلبہ نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین کے اہم مطالبات میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ بھی شامل تھا۔ ہفتہ کو پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد پیر کو وہ پارلیمنٹ پہنچے تو این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے ان کا استقبال کیا اور انہیں روایتی پگڑی پہنائی۔
اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ دھرمیندر پردھان ’بدعنوانی اور ہندوستان کے تباہ حال تعلیمی نظام کی علامت‘ ہیں۔ ان کے مطابق اسی نظام نے 26 بچوں کی جان لی اور لاکھوں نوجوانوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے کہا کہ استعفیٰ اخلاقی بنیاد پر نہیں بلکہ نوجوانوں کے غصے کے دباؤ میں دیا گیا، اور آج اسی شخص کو بی جے پی کی جانب سے عزت دی جا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا، ’’یہ کوئی اعزاز نہیں بلکہ لاکھوں بچوں کے مستقبل کی بربادی کا جشن ہے۔ ملک کا ہر طالب علم یہ سب دیکھ رہا ہے اور اس میں شامل ہر چہرے کو یاد رکھے گا۔‘‘
دوسری جانب انڈین یوتھ کانگریس نے ایکس پر جاری بیان میں الزام لگایا کہ ملک بھر میں پیپر لیک اور بی جے پی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے طلبہ و نوجوانوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن مسلسل جاری ہے۔ تنظیم کے مطابق صرف بہار اور اتر پردیش میں ہی سینکڑوں طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
یوتھ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ کئی طلبہ کو ان کے ہاسٹلوں اور گھروں سے حراست میں لیا جا رہا ہے جبکہ متعدد نوجوان اب بھی جیلوں میں بند ہیں۔ تنظیم نے اپنی پوسٹ کے ساتھ بہار اور اتر پردیش کے ان افراد کی ابتدائی فہرستیں بھی جاری کیں جن کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ صرف ان افراد کے نام ہیں جن کی معلومات اب تک موصول ہوئی ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی طالب علم یا نوجوان کو سوشل میڈیا پوسٹ، پُرامن احتجاج یا طلبہ تحریک میں شرکت کی وجہ سے پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے، دھمکیاں دی جا رہی ہیں یا اس کا کوئی ساتھی گرفتار ہے تو وہ تنظیم کی #SOSCKGLegal ہیلپ لائن سے رابطہ کرے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
