قومی خبریں

بجٹ اجلاس: پی چدمبرم کا صدر دروپدی مرمو کے خطاب پر ردعمل، 125 دن روزگار کی گارنٹی کو فریب قرار دیا

پی چدمبرم نے صدر دروپدی مرمو کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں 125 دن کے روزگار کی گارنٹی محض ایک فریب ہے، کیونکہ منریگا میں اوسط روزگار 50 دن سے زیادہ نہیں رہا

<div class="paragraphs"><p>پی چدمبرم (فائل)، تصویر یو این آئی</p></div>

پی چدمبرم (فائل)، تصویر یو این آئی

 
ASHISH KAR

نئی دہلی: سابق مرکزی وزیرِ خزانہ اور کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے صدر دروپدی مرمو کے بجٹ اجلاس سے خطاب پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت کے دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔ پی چدمبرم نے ایکس پر جاری اپنی پوسٹ میں کہا کہ دیہی علاقوں میں 125 دن کے روزگار کی جس گارنٹی کا ذکر کیا گیا ہے، وہ حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ محض ایک فریب ہے۔

Published: undefined

صدر دروپدی مرمو نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’وکست بھارت-گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (دیہی)‘ یعنی وی بی-جی رام جی قانون نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت دیہی علاقوں میں 125 دن کے روزگار کی گارنٹی دی جائے گی۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی چدمبرم نے کہا کہ یہ دعویٰ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق گزشتہ برسوں میں منریگا کے تحت ایک خاندان کو اوسطاً صرف 50 دن کا ہی روزگار ملا ہے۔

پی چدمبرم نے وضاحت کی کہ یہ کمی روزگار کی مانگ نہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے رہی کیونکہ مرکزی حکومت نے اس اسکیم کے لیے مناسب فنڈز فراہم نہیں کیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اوسط روزگار 50 دن رہا ہے تو وہ اچانک 125 دن کیسے ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا حکومت آئندہ مالی برسوں 2024-25 اور 2025-26 میں منریگا کے لیے مختص رقم کو ڈھائی گنا بڑھانے جا رہی ہے؟

Published: undefined

کانگریس رہنما نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ 125 دن کے روزگار کو گارنٹی کہنا درست نہیں، یہ صرف ایک وہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بغیر مالی بنیاد کے ایسے دعوے کرنے ہی ہیں تو پھر 125 دن پر کیوں رکا جائے، حکومت کو چاہیے کہ سال کے 365 دن کے روزگار کی بھی گارنٹی دے دے۔ ان کے مطابق ایسے وعدے کھوکھلے ہوتے ہیں اور زمینی حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس صدر دروپدی مرمو کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ شروع ہوا۔ اس دوران جب صدر نے وی بی-جی رام جی قانون کا ذکر کیا تو اپوزیشن کے کئی اراکینِ پارلیمنٹ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کرنے لگے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت روزگار جیسے حساس معاملے پر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔

Published: undefined

یہ بجٹ اجلاس کل 65 دنوں پر محیط ہوگا، جس میں 30 نشستیں ہوں گی اور اجلاس کا اختتام 2 اپریل کو ہوگا۔ دونوں ایوان 13 فروری کو وقفے کے لیے ملتوی ہوں گے اور 9 مارچ کو دوبارہ کارروائی کا آغاز کریں گے، تاکہ مختلف وزارتوں اور محکموں کے اخراجات کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined