آسام، مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کا اعلان، 4 مئی نتائج
الیکشن کمیشن نے آسام، مغربی بنگال، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ مختلف مراحل میں ہونے والی ووٹنگ کے نتائج 4 مئی کو جاری کئے جائیں گے

نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے آسام، مغربی بنگال، کیرالہ، تمل ناڈو اور مرکز کے زیر انتظام خطے پڈوچیری میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو پولنگ کرائی جائے گی۔ تمل ناڈو میں بھی ایک مرحلے میں 23 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطے کے انتخابی نتائج 4 مئی کو جاری کیے جائیں گے۔
انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ان تمام ریاستوں اور خطے میں فوری طور پر ضابطہ اخلاق نافذ ہو گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اتوار کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ کمیشن کی ٹیم نے حالیہ دنوں میں تمام انتخابی ریاستوں کا دورہ کر کے تیاریوں کا جائزہ لیا اور سیاسی جماعتوں، انتظامی افسران اور ووٹروں سے تفصیلی بات چیت کی۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کر کے ان کی تجاویز حاصل کیں۔ اس کے علاوہ نفاذی ایجنسیوں کے افسران، ضلع الیکشن افسران، پولیس افسران، ریاستی الیکشن افسران اور پولیس کے سربراہان کے ساتھ بھی تفصیلی گفتگو کی گئی تاکہ انتخابات کے انعقاد کو شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق کمیشن نے نوجوانوں اور پہلی بار ووٹ ڈالنے والے شہریوں سے بھی بات چیت کی اور انہیں جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے بوتھ لیول افسران کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ افسران انتخابی عمل کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
گیانیش کمار نے کہا کہ یہ تمام ریاستیں جغرافیائی اور ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی گہرے نظرثانی عمل کے ذریعے ووٹر فہرستوں کو بہتر بنایا گیا ہے تاکہ کوئی اہل ووٹر اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے اور کوئی نااہل شخص فہرست میں شامل نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ صاف اور درست ووٹر فہرست جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہے، اسی لیے کمیشن نے خصوصی مہم چلا کر تمام اہل شہریوں کے نام ووٹر فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں تقریباً 17.4 کروڑ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ کمیشن نے کہا کہ یہ تعداد آسٹریلیا، فرانس، جنوبی افریقہ، جرمنی اور کینیڈا جیسے کئی ممالک کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔
کمیشن نے بتایا کہ پانچ ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام خطے میں مجموعی طور پر 824 اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ اس مقصد کے لیے 2.19 لاکھ پولنگ مراکز قائم کیے جائیں گے جبکہ انتخابی عمل کو منظم طریقے سے مکمل کرانے کے لیے تقریباً 25 لاکھ انتخابی اہلکار اور ملازمین تعینات کیے جائیں گے۔
سکیورٹی کے حوالے سے بھی وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق انتخابات کے دوران تقریباً 8.50 لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ ووٹنگ پُرامن اور محفوظ ماحول میں مکمل ہو سکے۔
کمیشن نے ریاستوں کے لحاظ سے ووٹروں کی تعداد بھی جاری کی۔ اس کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 6.44 کروڑ ووٹر ہیں جبکہ آسام میں لگ بھگ 2.5 کروڑ ووٹر ووٹ ڈالیں گے۔
انتخابی انتظامات کے سلسلے میں کئی خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ بعض مقامات پر پنک پولنگ مراکز قائم کیے جائیں گے جہاں مکمل انتظام خواتین اہلکاروں کے ذریعے چلایا جائے گا۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ پولنگ مراکز کے اندر موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ووٹروں کو اپنے فون باہر رکھنا ہوں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔