
اسرو، تصویر آئی اے این ایس
ہندوستانی خلائی مشن ان دنوں بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کی سب سے معتبر خلائی ایجنسی ’اسرو‘ سے ہر سال 100 سے 120 سائنسدانوں کے استعفیٰ دینے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ مہینوں میں یہ تعداد کچھ زیادہ ہی بڑھ چکی ہے۔ سب سے زیادہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اسرو چھوڑنے والے سائنسدانوں میں گگن یان اور چندریان جیسے اہم منصوبوں کو سنبھالنے والے اہم چہرے بھی شامل ہیں۔ سائنسدانوں کے استعفیے کی وجہ سے سرکاری محکموں اور خلائی محکمے کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ ’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن‘ سے تجربہ کار سائنسدانوں کے باہر جانے کی سب سے بڑی وجہ ملک کے نجی خلائی شعبے میں تیزی ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے نجی کمپنیوں کو بڑے سیٹلائٹ پروجیکٹس سونپنے اور لانچ وہیکل کی تکنیک ٹرانسفر کرنے کی پالیسی بنائی ہیں۔ اس کے بعد سے ہی بازاروں میں خلائی سائنسدانوں کے ماہرین کی مانگوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ نجی سیکٹر کی کمپنیاں ان سائنسدانوں کو بہتر پیکج اور نئے مواقع دے رہی ہیں۔ اسی فائدے کی وجہ سے اسرو کے بہت سے سائنسدان اپنی سرکاری نوکریاں چھوڑ کر کارپوریٹ اسپیس انڈسٹری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جس کے اثرات ملک کے اہم پروجیکٹس پر پڑ رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اسرو کے کل 14600 سے زیادہ ملازمین کے مقابلے میں استعفیٰ دینے والوں کی تعداد بھلے ہی کم لگے۔ لیکن اس کا اثر بہت گہرا ہے۔ یو آرراؤ سیٹلائٹ سینٹر، جہاں تقریباً 1339 ملازمین کام کرتے ہیں۔ وہاں سے تقریباً 80 سائنسداں جا چکے ہیں۔ وہیں 4577 ملازمین والے ’وکرم سارا بھائی اسپیس سینٹر‘ سے کم از کم 20 سینئر سائنسدانوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان میں ایل وی ایم-3 پروجیکٹ کے ڈائریکٹر وکٹر جوسیف اور چندیان-3 کے پروجیکٹ منیجر آدتیہ رلا پلی جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ ان اہم چہروں کے استعفیٰ دینے کی وجہ سے گگنیان جیسے اہم مشن کی رفتار کم ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔ سائنسدانوں کے اس اخراج کو روکنے کے لیے محکمہ خلائی (ڈی او ایس) نے انتہائی سخت انتظامی اقدامات کیے ہیں۔
نئے قوانین کے مطابق اب اسرو کے مختلف مراکز کے ڈائریکٹر اپنی مرضی سے کسی بھی گروپ اے کے سائنسداں یا انجینئر کا استعفی منظور نہیں کر سکیں گے۔ اگر کوئی سائنسداں گگنیان یا کسی دیگر اہم پروجیکٹ سے وابستہ ہے تو اس کی درخواست تب تک منظور نہیں ہوگی، جب تک وہ مشن پورا نہیں ہو جاتا ہے۔ اب کسی بھی سائنسداں کو وی آر ایس یا استعفی دینے کے لیے سخت طریقۂ کار سے گزرنا ہوگا اور ان کی درخواست پر دہلی میں واقع خلائی محکمہ کے ہیڈ کواٹر میں فیصلہ لیا جائے گا۔ اسرو کا انتظامی ڈھانچہ لازمی قرار دیتا ہے کہ کسی بھی سائنسدان کو انسٹی ٹیوٹ چھوڑنے سے پہلے ایک طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ عام اصولوں کے مطابق ہر ملازم جو نوکری چھوڑنا چاہتا ہے، اسے تحریری نوٹس یعنی کم از کم تین ماہ قبل نوٹس دینا ہوتا ہے۔ اگر کوئی سائنسدان اس وقت سے پہلے جانا چاہتا ہے تو اسے اس مدت کے بدلے محکمہ میں مقررہ تنخواہ جمع کرانی ہوگی۔ یہ سخت قاعدہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ جانے والا سائنسدان اپنے کام اور تحقیقی ڈاٹا کو محفوظ طریقے سے کسی دوسرے ساتھی کے حوالے کر سکے اور ملک کے اہم منصوبوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔