پنجاب ایس آئی آر: بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے کی شکایت، غیر مجاز دستاویزات مانگنے پر تحقیقات کا مطالبہ
بی جے پی کے مطابق بی ایل او کی جانب سے کرایہ دار ووٹرس سے رجسٹرڈ کرایہ نامہ یا مکان مالک کا حلف نامہ جیسے غیر مجاز دستاویزات تک مانگے جا رہے ہیں۔

پنجاب میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے شکایت کی ہے۔ بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے اپنی شکایت میں بتایا کہ ایس آئی آر کی آڑ میں سرکاری منصوبوں کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ پارٹی نے ووٹرس سے غیر مجاز دستاویزات مانگنے اور سرکاری منصوبوں کی تشہیر کرانے کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاست میں آئندہ سال کی شروعات میں اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں۔
پنجاب میں پارٹی کے ریاستی صدر کیول سنگھ ڈھلوں نے الیکشن کمیشن اور ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کو ایک ضروری میمورنڈم بھیج کر ایس آئی آر مہم کے دوران کچھ سرکاری افسران اور بی ایل او کے ذریعہ کی جا رہی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے اس معاملے میں فوری مداخلت کرنے اور ضروری اصلاحی ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈھلوں کی جانب سے بھیجے گئے خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ریاست کے مختلف حصوں میں انتخابی ڈیوٹی پر تعینات کچھ افسر ایس آئی آر کی آڑ میں پنجاب حکومت کے مختلف منصوبوں سے متعلقہ ڈیٹا جمع کر رہے ہیں اور لوگوں کو ان منصوبوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے ترغیب دے رہے ہیں۔
پارٹی نے واضح کیا کہ ایسی سرگرمیاں الیکشن کمیشن کے عمل کے مقصد کے بالکل برعکس اور غیر قانونی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی جگہوں پر بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کی جانب سے کرایہ دار ووٹرس سے رجسٹرڈ کرایہ نامہ یا مکان مالک کا حلف نامہ جیسے غیر مجاز دستاویزات تک مانگے جا رہے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کی ہدایات میں ایسی کوئی شرط لازمی نہیں ہے۔ ان غیر مناسب مطالبات کے باعث عام ووٹرس کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ ضروری انتخابی عمل بلاوجہ پیچیدہ بن رہا ہے۔
بی جے پی نے مطالبہ کیا ہے کہ متعینہ قوانین سے باہر جا کر ڈیٹا جمع کرنے اور سرکاری منصوبوں کی تشہیر کرنے والے افسران کے خلاف فوری طور پر تحقیقات شروع کر سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی کرایہ داروں سے غیر مجاز دستاویزات مانگنے والے بی ایل او کی منمانی پر روک لگائی جائے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ تمام ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر (ڈی ای او)، الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او)، اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) اور بی ایل او کو واضح اور سخت ہدایات جاری کی جائیں کہ ووٹرس سے طے شدہ قوانین کے علاوہ کوئی بھی اضافی دستاویز نہ مانگا جائے۔
بی جے پی کے ریاستی صدر نے زور دے کر کہا کہ یہ معاملہ مفاد عامہ اور انتخابی عمل کی ساکھ سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی کا عمل مکمل طور پر غیر جانبدار، شفاف، ووٹر دوست اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔
