ہندوستانی دفاعی صنعت کی 40 افریقی ممالک تک ہوگی رسائی، پونے میں کانفرنس کی تیاریاں جاری

مہاراشٹر کے پونے میں 4 اور 5 نومبر کو متوقع کانفرنس میں تقریباً 40 افریقی ممالک کے فوجی سربراہوں، 120 سینئر فوجی افسران اور ہندوستان میں ان کے ’ڈیفنس اٹیچس‘ کے شامل ہونے کا امکان ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہندوستانی فوج / آئی اے این ایس</p></div>
i

ہندوستان افریقی ممالک کے فوجی سربراہان کے لیے ایک بڑی کانفرنس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ مہاراشٹر کے پونے میں 4 اور 5 نومبر کو متوقع کانفرنس میں تقریباً 40 افریقی ممالک کے فوجی سربراہوں، 120 سینئر فوجی افسران اور ہندوستان میں ان کے ’ڈیفینس اٹیچس‘ (ڈی اے) کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ کانفرنس ایسے وقت میں ہونے جا رہی ہے، جب ہندوستان اپنی دفاعی سفارت کاری کو صرف فوجی تعاون تک محدود نہ رکھ کر اسے دفاعی صنعت، تکنیکی شراکت داری اور دیسی ہتھیاروں کی برآمد سے جوڑ رہا ہے۔ فوج کی جنوبی کمانڈ کی نگرانی میں ہونے والی اس کانفرنس میں دفاعی سفارتی مکالمہ کے ساتھ ساتھ دفاعی نمائش کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس کا مقصد تقریباً 40 افریقی ممالک کے دروازے تک دیسی دفاعی صنعت پہنچا کر افریقی بازاروں میں دستک دینا ہے۔

ذرائع کے مطابق نمائش میں ان ’دیسی دفاعی نظام‘ پر زور ہوگا، جو جدید جنگ کی نئی ضرورتوں کو پورہ کرتی ہیں۔ ان میں ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی، بکتر بند گاڑیاں اور انفنٹری کیریئر، ہندوستان میں تیار کی گئیں ہلکی اور درمیانی توپیں، الیکٹرانک وارفیئر سسٹم، سائبر سیکورٹی کا حل اور نائٹ ویژن آلات اہم ہوں گے۔ افریقہ میں توسیع کے ساتھ ہندوستانی دفاعی صنعت کے سامنے چیلنجز بھی ہوں گے۔ روس دہائیوں سے افریقی ممالک کے ہتھیاروں کا ایک بڑا سپلائر رہا ہے۔ چین کی کم قیمت، تیز رفتار سپلائی اور جارحانہ سفارت کاری کی بنیاد پر قدم جمائے ہوئے ہے۔ ایسے میں ہندوستان کی کوشش اپنی تکنیک، لاگت اور قابل اعتماد شراکت داری کی بنیاد پر آگے نکلنے کی ہوگی۔


افریقہ میں دفاعی تعاون کو لے کر عالمی مقابلہ تیز ہو چکا ہے۔ امریکہ، فرانس، روس، چین اور ڈرون تکنیک کی بنیاد پر ترکیہ موجود ہے۔ ایسے میں ہندوستان خود کو ایک قابل اعتماد اور طویل مدتی دفاعی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ بیشتر افریقی ممالک کے دفاعی بجٹ محدود ہیں۔ انہیں کم لاگت، آسان آپریشن اور کم دیکھ بھال والے ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ افریقہ میں ہندوستان کی دفاعی موجودگی پہلے سے ہے، جسے اب مزید توسیع دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ماریشس اور سیشلز ہندوستان کے سب سے قریبی دفاعی شراکت دار ہیں۔ ہندوستان نے دونوں ملکوں کو ڈورنیئر-228 ہوائی جہاز، دھرو ہیلی کاپٹر، باراکوڈا کلاس آف شور گشتی جہاز اور ساحلی راڈار نیٹ ورک جیسے سمندری حفاظتی نظام فراہم کیے ہیں۔ بحر ہند میں ساحلی سلامتی کے لیے موزمبیق کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ مراکش میں بکتر بند گاڑیوں کے لیے ہندوستان کے پہلے بیرون ملک دفاعی مینوفیکچرنگ یونٹ کا قیام ہندوستانی دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔