
گرافکس ’قومی آواز‘
نئی نسل کے اساتذہ سے انٹرویو پر مبنی سلسلہ ’سوال استاد سے‘ کی تیسری قسط میں ڈاکٹر ضیاء اللہ انور سے خصوصی گفتگو ہوئی۔ وہ شعبۂ اُردو، مگدھ یونیورسٹی (بودھ گیا) سے منسلک ہیں اور طلبا میں اُردو کے تئیں محبت جگانے کے لیے جدید تکنیک کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ اس گفتگو میں انھوں نے تدریس کے دوران پیش آنے والے کچھ ایسے مسائل کی طرف نشاندہی کی جو فکر انگیز ہی نہیں، باعث تشویش بھی ہیں۔
Published: undefined
ضیاء اللہ انور کی پیدائش تاریخی شہر عظیم آباد میں ہوئی اور انھوں نے ابتدائی تعلیم جامعہ اصلاحیہ سلفیہ، عالم گنج سے حاصل کی۔ والد عبیداللہ انور اور والدہ اسماء انور کی بہترین پرورش کا نتیجہ یہ ہوا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم میں بھی وہ سرخرو ہوئے۔ عصری تعلیم کی بات کریں تو پہلے انھوں نے ’پٹنہ کالج‘ سے بی اے کی ڈگری حاصل کی، اور پھر راجدھانی دہلی کی تاریخی ’جواہر لال نہرو یونیورسٹی‘ سے اردو سبجیکٹ میں ایم اے، ایم فل و پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ فروری 2019 سے جنوری 2020 تک انھوں نے بطور گیسٹ فیکلٹی ’راجندر کالج‘ (چھپرہ) میں تدریسی خدمات انجام دیں، اور پھر 15 فروری 2020 میں مگدھ یونیورسٹی، بودھ گیا میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اردو ادب سے شغف رکھنے والے ضیاء اللہ انور کی مرتبہ کتاب ’شیریں کتھا‘ کو ’بہار اردو اکادمی‘ کی جانب سے ایوارڈ مل چکا ہے، اور اب ان کی دوسری کتاب ’نقد ممتاز شیریں‘ زیر طباعت ہے۔
————————————————
Published: undefined
مگدھ یونیورسٹی جیسے تاریخی تعلیمی ادارہ سے جڑ کر آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟
تاریخی و معتبر تعلیمی ادارہ مگدھ یونیورسٹی سے وابستہ ہو کر مجھے بیک وقت مسرت اور ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف علمی روایت اور تہذیبی ورثے کا امین ہے بلکہ اس نے تعلیم، تحقیق اور سماجی شعور کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس یونیورسٹی کا قیام تو 1962 میں ہوا، لیکن ’شعبہ اردو‘ کا قیام 1968 میں سید محمد حسنین کے ذریعہ عمل میں آیا۔ یہاں شعبہ اردو سے کئی قابل قدر علمی و ادبی شخصیات وابستہ رہی ہیں جن میں اردو کے اہم افسانہ نگار حسین الحق، علیم اللہ حالی، فصیح الزماں، محفوظ الحسن، افصح ظفر وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے۔ اس عظیم علمی ماحول کا حصہ بننا میرے لیے حوصلہ افزا بھی ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی، جو مجھے مسلسل سیکھنے، خود کو بہتر بنانے اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
آپ نے تاریخی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اب مگدھ یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ دونوں اداروں کے تعلیمی ماحول میں کیا آپ کوئی نمایاں فرق دیکھتے ہیں؟
جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور مگدھ یونیورسٹی دونوں اپنے اپنے مقام پر نہایت اہم اور معتبر تعلیمی ادارے ہیں، تاہم ان کے تعلیمی ماحول میں کچھ نمایاں فرق ضرور محسوس ہوتے ہیں۔ مثلاً جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول تحقیق پر مبنی، مکالمہ پسند اور بین الاقوامی معیار سے قریب تر ہے۔ وہاں تنقیدی سوچ، آزادانہ اظہارِ خیال اور بین العلومی (Interdisciplinary) مطالعے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ اس سے طلباء میں تحقیقی اعتماد اور فکری وسعت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس مگدھ یونیورسٹی کا ماحول زیادہ زمینی حقائق اور علاقائی سماجی ضروریات سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں طلباء کی ایک بڑی تعداد پہلی نسل کے تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے تدریس کا انداز زیادہ رہنمائی، حوصلہ افزائی اور بنیاد مضبوط کرنے پر مرکوز ہوتا ہے۔ اس ادارے میں تعلیم کے ساتھ سماجی ذمہ داری کا احساس بھی نمایاں ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرف جہاں جے این یو تحقیق اور فکری مباحث کا مرکز ہے، وہیں دوسری جانب مگدھ یونیورسٹی تعلیم کو سماجی تبدیلی اور عوامی خدمت سے جوڑنے کا مضبوط ذریعہ ہے۔
آپ اساتذہ کی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی سے آشنا ہے۔ آپ ’شعبۂ اُردو‘ کو اس سے کس طرح مستفید کرتے ہیں؟
اس میں شبہ نہیں کہ میں نئی نسل کے اساتذہ میں سے ایک ہوں، لیکن جدید ٹکنالوجی سے کام چلانے کی حد تک ہی آشنا ہوں۔ پھر بھی میری یہ کوشش ضرور رہتی ہے کہ میں اپنے طلباء کو اپنے محدود علم سے بہرہ مند کر سکوں۔ ڈیجیٹل لائبریری کا استعمال اور ویب پورٹل کے ذریعہ تحقیقی وسائل تک طلباء کی رسائی کے لیے انہیں رہنمائی فراہم کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتا ہوں تاکہ ریسرچ کو بہتر بنایا جا سکے اور اس سے طلباء کو آسانیاں میسر آئیں۔ پی ایچ ڈی کورس ورک میں اُردو کمپیوٹنگ اور ٹائپوگرافی کو سکھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یونی کوڈ، نستعلیق فونٹس، اردو ٹائپنگ ٹولز اور حوالہ جات کے طریقہ کار سے تحریری معیار بہتر بنانے کی جانب بھی طلباء کی توجہ مرکوز کراتا ہوں۔ علاوہ ازیں آن لائن مباحثے اور بین الجامعاتی روابط قائم کرنے کے لیے ویبینارز، ورچوئل کانفرنسز اور مہمان لیکچرز کے ذریعے ریاستی و قومی سطح پر علمی تبادلہ خیال کو ممکن بنانے پر زور دیتا ہوں تاکہ طلباء کو سیکھنے کا موقع مل سکے۔ وقتاً فوقتاً لیپ ٹاپ کے ذریعہ کلاس میں طلباء کو کچھ اہم ویڈیوز اور لسانیات کے خاکے کی نمائش بھی کراتا ہوں۔ اس سے طلباء کی تفہیم میں آسانی ہوتی ہے اور کلاس میں ان کی دلچسپی بنی رہتی ہے۔
تدریس میں آپ کا تجربہ تقریباً 6 سالوں پر مشتمل ہے، کس طرح کے مسائل کا اب تک سامنا کرنا پڑا ہے؟
میں نے 6 سال مگدھ یونیورسٹی میں اور ایک سال راجندر کالج چھپرہ میں تدریس کے فرائض انجام دیے ہیں۔ اس اعتبار سے میں کووڈ سے پہلے تدریس کے طریقہ اور بعد میں تبدیل ہونے والی صورت حال کا بھی گواہ ہوں۔ گزشتہ 7 سالوں میں جہاں ہندوستان گیر سطح پر درس و تدریس کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے، وہیں بہار میں بھی اس کا اثر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بہار میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینا اپنے آپ میں ایک چیلنج ہے۔ یہاں اعلی تعلیم کے معاملہ میں ذمہ داران کی بے توجہی اور طلبا کی عدم دلچسپی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کووڈ کے بعد سے طلبا کا کلاس روم سے عدم دلچسپی تدریس کے روایتی ڈھنگ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ طلباء آن لائن ذرائع سے تدریس کے خواہاں ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یونیورسٹی کی دوری ہے۔ یہاں عموماً طلباء دور دراز کے علاقہ سے آتے ہیں۔ کچھ طلبا کو تو 2 سے 4 گھنٹے صرف یونیورسٹی آنے میں لگ جاتے ہیں۔ انہیں گھر پہنچتے پہنچتے شام، اور کئی دفعہ رات ہو جاتی ہے۔ چونکہ شعبہ اردو میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے حاضری کا مسئلہ رہتا ہے۔ دراصل سرپرست خود بچیوں کو کلاس مسلسل بھیجنے میں کتراتے ہیں۔ بسا اوقات تو اس وجہ سے بچیوں کا تعلیمی سلسلہ بھی منقطع کروا دیا جاتا ہے۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کئی طلباء کی تعلیمی لیاقت میں بہت واضح فرق دکھائی پڑتا ہے۔ ایک ہی کلاس میں طلباء کی ذہنی اور تعلیمی صلاحیتیں بہت مختلف ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے سبق کو سب کے لیے یکساں مؤثر بنانا ایک چیلنج رہا ہے۔ ان مسائل کے باوجود میں نے صبر، مسلسل سیکھنے اور تدریسی مہارتوں میں بہتری کے ذریعے ان چیلنجز پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔
آپ کی تصنیف ’شیریں کتھا‘ کی بہت پذیرائی ہوئی، اس کتاب کی خاصیت کیا ہے؟
’شیریں کتھا‘ بنیادی طور پر میری مرتب کردہ کتاب ہے جو 2016 میں ’ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس‘ سے شائع ہوئی تھی۔ یہ کتاب ممتاز شیریں کی تخلیقات کا مجموعہ ہے۔ اس میں ممتاز شیریں کی نامکمل آپ بیتی، افسانہ، دیگر عالمی زبانوں کے مترجم افسانے اور خطوط شامل ہیں۔ یہ کتاب میری سالوں کی محنت کا ثمرہ ہے جسے ادبی حلقہ میں کافی اہمیت دی گئی۔ اس کتاب میں ممتاز شیریں کے دونوں افسانوی مجموعے ’اپنی نگریا‘ اور ’میگھ ملہار‘ شامل ہیں، جو اب ملک کی کئی معتبر لائبریریوں میں بھی ناپید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممتاز شیریں پر لکھنے والے کئی قلم کاروں کو مغالطہ ہوا ہے کہ ان کے 2 کے بجائے 3 افسانوی مجموعے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی نامکمل آپ بیتی ہندوستان میں کہیں دستیاب نہیں ہے۔ اسے میں نے پاکستان سے اپنے ایک خیر خواہ کے ذریعہ حاصل کیا۔ مزید ان کے مترجم افسانے برصغیر کے مختلف رسائل میں بکھرے پڑے تھے، جسے حتی المقدور میں نے کتاب میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ میں نے کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں مزید اضافے بھی کیے ہیں۔ میں یہ بتانا بھول گیا کہ ’شیریں کتھا‘ کا دوسرا ایڈیشن پاکستان سے راشد اشرف صاحب نے 2023 میں شائع کیا ہے، اور بقول ان کے اس کتاب کو وہاں بھی کافی سراہا گیا ہے۔ اس کتاب کا دوسرا حصہ ’نقد ممتاز شیریں‘ بھی زیر طبع ہے۔ ان شاء اللہ وہ بھی جلد منظر عام پر آئے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined