
آئی اے این ایس
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جیفری ایپسٹین سے ماضی کے تعلقات کے بارے میں اٹھنے والے سوالات پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے کئی برس پہلے ہی ایپسٹین سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ ساتھ ہی انتظامیہ نے کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
Published: undefined
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور وہ پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کو اپنے مار اے لاگو کلب سے نکال دیا تھا کیونکہ اس کا رویہ مناسب نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ برسوں پہلے کیا گیا تھا اور اس کے بعد دونوں کے درمیان کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔
Published: undefined
حال ہی میں سامنے آنے والی چند دستاویزات میں دو ہزار کی دہائی کے اوائل میں صدر اور پام بیچ کے پولیس چیف کے درمیان ایک مبینہ گفتگو کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس پر کیرولین لیوٹ نے کہا کہ انہیں اس مبینہ فون کال کی تصدیق شدہ معلومات حاصل نہیں ہیں، تاہم یہ حقیقت برقرار ہے کہ صدر نے ایپسٹین کو اپنے کلب سے نکال دیا تھا۔
پریس سیکریٹری نے یہ بھی کہا کہ ایپسٹین اور اس کے سنگین جرائم سے متعلق تیس لاکھ سے زیادہ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی گئی ہیں، جو انتظامیہ کی شفافیت کی پالیسی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت حقائق سامنے لانے کے لیے پرعزم ہے۔
Published: undefined
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا صدر گیلین مکسول کو معافی دینے پر غور کریں گے تو انہوں نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ دوسری جانب ہاورڈ لٹنک کے ایپسٹین سے ماضی کے رابطوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ صدر کی ٹیم کے اہم رکن ہیں اور انہیں مکمل حمایت حاصل ہے۔
جیفری ایپسٹین پر جنسی اسمگلنگ کے الزامات عائد تھے اور سنہ 2019 میں وفاقی حراست کے دوران اس کی موت ہو گئی تھی، جب کہ گھسلین میکسویل کو متعلقہ مقدمات میں قصوروار قرار دیا جا چکا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined