
اسرائیلی حملہ کے بعد لبنان کے علاقہ میں تباہی کا منظر / Getty Images
نئی دہلی: یونیسیف نے لبنان میں جاری تشدد اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انسانی صورت حال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں بچے شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق مسلسل تشدد، بار بار نقل مکانی اور خوف کے ماحول نے بچوں کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کے اثرات کئی برس تک باقی رہ سکتے ہیں۔
Published: undefined
یونیسیف کی سرکاری رپورٹ کے مطابق لبنان میں تقریباً 7.7 لاکھ بچے ذہنی دباؤ کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ 17 اپریل 2026 کو اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود بچوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس سے صورت حال کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب تک 23 بچوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ 93 زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب 2 مارچ سے اب تک مجموعی طور پر 200 بچوں کی جان جا چکی ہے اور 806 بچے زخمی ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اوسطاً روزانہ تقریباً 14 بچے ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔
Published: undefined
یونیسیف کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچے نہ صرف تشدد کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے قریبی افراد سے بچھڑنے اور بار بار گھر چھوڑنے کی تکلیف دہ صورت حال سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات بچوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں اور ان کی نفسیاتی کیفیت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
Published: undefined
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈوارڈ بیگبیڈر نے کہا کہ اگر متاثرہ بچوں تک فوری مدد نہ پہنچائی گئی تو اس بحران کے ذہنی اثرات طویل مدت تک ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے اثرات صرف بچوں کی زندگی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ لبنان کے مستقبل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق بچوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں میں شدید ذہنی دباؤ، خوف، بے چینی، ڈراؤنے خواب، نیند کی کمی اور مستقبل کے بارے میں مایوسی جیسی علامات سامنے آ رہی ہیں۔ یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ اگر بچوں کو محفوظ ماحول اور نفسیاتی معاونت فراہم نہ کی گئی تو انہیں مستقل ذہنی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined