لبنان میں طبی بحران، بینڈیج اور اینٹی بایوٹکس ختم ہونے کے قریب: عالمی ادارۂ صحت
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد اسپتالوں میں ٹراما کٹس، بینڈیج اور اینٹی بایوٹکس کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے، جس سے مریضوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے

بیروت: عالمی ادارۂ صحت نے لبنان میں تیزی سے بگڑتی ہوئی طبی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک کے متعدد اسپتالوں میں جان بچانے والی ٹراما میڈیکل کٹس چند دنوں میں مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہیں۔ ادارے کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد زخمیوں کی بڑی تعداد نے طبی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں ضروری طبی سامان کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔
لبنان میں عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے ڈاکٹر عبد الناصر ابوبکر نے ایک بیان میں کہا کہ ٹراما مینجمنٹ کے لیے درکار کئی بنیادی اشیا پہلے ہی کم ہو چکی تھیں اور اب خدشہ ہے کہ یہ مکمل طور پر ختم ہو جائیں گی۔ ان کے مطابق ان کٹس میں بینڈیج، اینٹی بایوٹکس اور اینستھیٹکس شامل ہوتے ہیں، جو جنگی حالات میں زخمی افراد کے فوری علاج کے لیے نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ حالات میں نہ صرف زخمی شہریوں بلکہ طبی عملے کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔ عارضی کیمپوں میں رہنے والے افراد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور یہ اثرات طویل مدت تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محدود وسائل کے ساتھ صحت کی خدمات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کو ہونے والے شدید حملوں میں دو سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جس کے بعد لبنان میں قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ لبنان کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بھی زخمیوں کی بڑی تعداد کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ کارروائیاں حزب اللہ کے خلاف کی جا رہی ہیں اور یہ اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک شمالی علاقوں میں سکیورٹی مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت اور دیگر انسانی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر فوری طور پر طبی امداد نہ پہنچائی گئی تو انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔