دہلی: ’نربھیا کے نام پر سیاست کرنے والوں کی سچائی بے نقاب‘، چلتی بس میں مبینہ اجتماعی عصمت دری پر ڈاکٹر نریش کا سخت ردعمل
کانگریس کے سینئر ترجمان نے نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کے معاملات میں دہلی مسلسل ملک کے بڑے شہروں میں ٹاپ پر بنی ہوئی ہے۔

دہلی کے رانی باغ-نانگلوئی علاقے سے منسلک چلتی بس میں خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری معاملے پر دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’نربھیا معاملہ پر سیاست اور احتجاج کر کے اقتدار حاصل کرنے والوں کی حکومت میں آج دہلی کی خواتین سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’رپورٹس کے مطابق خاتون کو رانی باغ علاقہ کے پاس ایک سلیپر بس میں جبراً کھینچا گیا اور بس نانگلوئی تک گھومتی رہی۔ بعد میں ملزمان نے خاتون کو سڑک پر پھینک دیا۔‘‘
ڈاکٹر نریش کمار کے مطابق 2012 کے نربھیا معاملہ کے وقت مرکز اور دہلی دونوں جگہ کانگریس کی حکومت تھی۔ اس وقت بی جے پی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے تھے، اس وقت کی وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کے استعفیٰ کا مطالبہ اور خواتین کی سیکورٹی کو لے کر بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے۔ عوام کو بھروسہ دلایا گیا تھا کہ اقتدار بدلنے کے ساتھ دہلی محفوظ ہو جائے گی، لیکن آج حالات پہلے سے زیادہ تشویشناک نظر آ رہے ہیں۔ جس طرح نربھیا معاملے میں اُس وقت کی وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت سے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا، اسی طرح آج وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا بھی خواتین کی سیکورٹی میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے فوری طور پر استعفیٰ دیں۔
کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ آج مرکز اور دہلی دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود خواتین کے خلاف جرائم میں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رانی باغ-نانگلوئی چلتی بس میں اجتماعی عصمت دری کا معاملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ راجدھانی میں لا اینڈ آرڈر مکمل طور سے ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک 3 سال کی بچی کے ساتھ اسکول میں مبینہ عصمت دری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب اسکولوں اور عوامی مقامات پر بھی خواتین اور بچیاں محفوظ نہیں ہیں تو حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔
کانگریس کے سینئر ترجمان نے نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کے معاملات میں دہلی مسلسل ملک کے بڑے شہروں میں ٹاپ پر بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق راجدھانی میں عصمت دری، اغوا اور ہراساں کرنے جیسے سنگین جرائم کے ہزاروں معاملے درج ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر نریش کمار کا کہنا ہے کہ صرف بس ڈارئیور کنڈکٹر کی گرفتاری سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس پورے معاملے میں پولیس کے طریقہ کار اور لاپرواہی کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ واقعہ کے وقت پولیس پٹرولنگ کہاں تھی اور راجدھانی کا مانیٹرنگ سسٹم کیوں ناکام ثابت ہوا؟
ڈاکٹر نریش کمار کا کہنا ہے کہ دہلی پولیس براہ راست وزیر داخلہ امت شاہ کے ماتحت کام کرتی ہے، اس لیے جرائم کے بڑھتے معاملات کی ذمہ داری مرکزی حکومت سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ خواتین کی سیکورٹی کے نام پر سیاست کرنے والے آج خاموش کیوں ہیں؟ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا پر حملہ بولتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ایک خاتون وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود دہلی کی خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ حکومت صرف تشہیر اور بیانات تک محدود نظر آ رہی ہے، جبکہ مجرمان کے حوصلے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
سینئر ترجمان نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملہ کی تیزی سے جانچ کر متاثرہ کو انصاف دلایا جائے اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس کو حساس علاقوں اور رات کے وقت اپنی پٹرولنگ فوراً بڑھا دینی چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر دہلی کی بسوں میں پہلے تعینات رہنے والے سیکورٹی گارڈ آج کہاں غائب ہو گئے؟ حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دہلی کی تمام بسوں میں دوبارہ سیکورٹی گارڈ تعینات کیے جائیں تاکہ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے اعتماد کو مضبوطی مل سکے۔ ساتھ ہی راجدھانی کے تمام بس اسٹینڈز اور حساس عوامی مقامات پر اعلیٰ معیار والے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں اور ان کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم پر مؤثر روک لگائی جا سکے۔
