
ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، تو وہیں دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان 4 سال سے زائد عرصے سے جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے بھی عالمی سطح پر کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ اس تنازع کو ختم کرانے کی اب تک کی تمام کوششیں بھی ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اس صورتحال میں معروف صحافیوں میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان کی لکھی نئی کتاب ’رجیم چینج‘ سرخیوں میں آ گئی ہے۔
Published: undefined
منگل کے روز شائع ہوئی اس نئی کتاب میں ہندوستان، امریکہ اور یوکرین جنگ کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کتاب میں لکھا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس چاہتے تھے کہ یوکرین کی مدد کے لیے ہندوستان اپنے فوجی بھیجے، لیکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسے ہنس کر ٹال دیا۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر وائٹ ہاؤس میں ہوئی بحث کے دوران امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے مشورہ دیا کہ یوکرین میں امن فوج کے طور پر ہندوستان یا سعودی عرب کے فوجیوں کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
نیو یارک ٹائمز کے صحافیوں میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان کی نئی کتاب ’رجیم چینج: انسائیڈ دی امپیریل پریزیڈینسی آف ڈونالڈ ٹرمپ‘ کے مطابق یہ باتیں ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کے اوائل میں کہی گئی تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے حلف برداری کے محض 10 دن بعد اوول آفس میں ایک میٹنگ طلب کی جس میں صدر ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ مشیروں کو ریٹائرڈ آرمی لیفٹیننٹ جنرل کیتھ کیلوگ بریفنگ دے رہے تھے۔ صدر نے کیلوگ کو یوکرین اور روس کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی مقرر کیا تھا۔
Published: undefined
ہیبرمین اور سوان لکھتے ہیں کہ بحث کے دوران کیلوگ نے ’این امریکی فرسٹ پلان: ٹرمپس ہسٹورک پیس ڈیل فار ایشیا-یوکرین وار‘ نام کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز میں کہا گیا تھا کہ امریکہ یوکرین میں مقبوضہ علاقوں کے بارے میں روس کے دعوؤں کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرے گا لیکن اس میں ایک بڑی رعایت یہ رہے گی کہ یوکرین طاقت کے ذریعے کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس خیال کے ساتھ میٹنگ میں غیر ناٹو امن فوج کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
Published: undefined
کتاب میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر وینس نے پوچھا کہ کیا دوسرے ممالک کے فوجی ہیں جو اس کام کے لیے آسکتے ہیں؟ اس کے بعد انہوں نے ’’سعودی عرب یا ہندوستان‘‘ سے فوجیوں کو بلانے کا مشورہ دیا۔ کتاب میں صدر کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ مسکرائے اور کہا کہ ’’ہندوستانی ایسا نہیں کریں گے، وہ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے۔‘‘
Published: undefined
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ کتاب کے مطابق ٹرمپ نے کہا ’’ پی ایم مودی انہیں بہت پسند کرتے تھے اور ان سے ملنا چاہتے تھے، لیکن ہندوستانی کبھی کسی چیز کے لیے پیسے نہیں دیتے۔‘‘ کتاب کے ایک اور باب میں ٹیرف پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ پھر ہندوستان کا ذکر کرتے ہیں۔ ’’اسپیشل گورنمنٹ ایمپلائی‘‘ کے طور پر کام کرچکے ارب پتی کاروباری ایلون مسک کا کابینی سکریٹریوں کے ساتھ تنازع کے کچھ دنوں بعد 10 مارچ کو وائٹ ہاؤس میں ٹیکنالوجی سی ای او کونسل کی میٹنگ ہوئی۔ روزویلٹ روم میں منعقد اس میٹنگ میں کئی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
Published: undefined
امریکی کامرس سکریٹری ہاورڈ لٹنک نے افسران سے پوچھا کہ ’’ آپ کو امریکہ میں نئی فیکٹریاں بنانے کے لیے قائل کرنے کی خاطر ہمیں کیا کرنا ہوگا؟‘‘ اسی میٹنگ میں ٹیرف پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ہندوستان کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ہندوستان امریکی اشیاء پر 175 فیصد تک ڈیوٹی لگاتا ہے۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت ٹرمپ نے کہا کہ ’’جو لوگ یہاں سامان نہیں بنائیں گے، انہیں بھاری ٹیرف دینا ہوگا۔ 20 فیصد نہیں، بلکہ 100 فیصد۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے ساتھ بہت نا انصافی ہوتی ہے۔ چین ہم پر 150 سے 200 فیصد اور ہندوستان 175 فیصد تک ٹیرف لگاتا ہے۔‘‘
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined