کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کے بیٹے کو جان سے مارنے کی دھمکی کا الزام، ایف آئی آر درج

لکھنؤ میں سبھاسپا کے ریاستی دفتر میں مبینہ طور پر گھسنے، گالی گلوچ کرنے، حملہ کرنے اور پستول سے دھمکی دینے کے الزام میں راشد علی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

اتر پردیش کی راجدھانی  لکھنؤ میں، کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کی پارٹی، سبھاسپا کے دفتر میں مبینہ طور پر پستول نکالنے اور دھمکی دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ شکایت سبھاسپا کے ریاستی دفتر کے انچارج دھرم پرکاش چودھری نے درج کرائی تھی۔ شکایت کے مطابق راشد علی نامی شخص 12 اگست کو پارٹی دفتر پہنچا۔ الزام ہے کہ دفتر میں داخل ہوتے ہی اس نے گالی گلوچ شروع کردی اور بے بنیاد الزامات لگانا شروع کردیئے۔ دفتر کے اندر موجود لوگوں نے اعتراض کیا تو صورتحال مزید بگڑ گئی۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ راشد علی  نامی شخص نے اعتراض کرنے پر ان پر حملہ کیا۔ اس کے بعد اس نے پستول نکالا اور گولی مارنے کی دھمکی دی۔ اس واقعہ سے پارٹی دفتر کے اندر موجود افراد میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا۔


شکایت کے مطابق دفتر میں موجود کارکنوں نے ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی۔ تاہم ہجوم کے جمع ہونے پر ملزمان فرار ہو گیا۔ الزام ہے کہ راشد علی نے سبھاسپا کے قومی جنرل سکریٹری اور کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کے بیٹے  ڈاکٹر اروند راج بھر کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔ واقعہ کے بعد سبھاسپا آفس کے انچارج دھرم پرکاش چودھری نے حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ملزم راشد علی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر نے بھی سوشل میڈیا پر اس واقعہ پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حملہ کرنے کی نیت سے پارٹی دفتر میں گھسنے والا شخص سماج وادی پارٹی کا کارکن ہے۔


تاہم اس معاملے کو لے کر صرف اوم پرکاش راج بھر کے الزام کو ہی دستیاب کیا گیا ہے۔ راشد علی کے خلاف پولیس ایف آئی آر میں بدسلوکی، حملہ اور دھمکیاں دینے کا الزام ہے۔ سبھاسپا آفس میں واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے۔ فوٹیج میں راشد علی کے نام سے ایک شخص کو پارٹی دفتر سے نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔