
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک جانب ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے دس دن کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے، تو دوسری جانب امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس ڈبل گیم نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، خاص طور پر وال اسٹریٹ جرنل کی خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون خطے میں دس ہزار تک اضافی زمینی فوجی بھیجنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صدر ٹرمپ کو ممکنہ عسکری کارروائیوں کے لیے مزید اختیارات فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے، چاہے بظاہر سفارتی بات چیت جاری ہی کیوں نہ ہو۔
Published: undefined
یہ صورتحال اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہے جب ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں ایرانی قیادت کے اہم افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس پس منظر میں موجودہ سفارتی کوششوں پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔
Published: undefined
دوسری طرف، امریکی فوج نے ایران کے خلاف جاری آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تصدیق کی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق بغیر عملے کے چلنے والی تیز رفتار ڈرون کشتیوں کو پہلی بار کسی فعال فوجی کارروائی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ کشتیاں بنیادی طور پر نگرانی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر انہیں حملے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز کے مطابق یہ جدید ڈرون کشتیاں میری لینڈ میں قائم ایک کمپنی نے تیار کی ہیں اور انہیں ایک مخصوص فوجی مشن کے تحت تعینات کیا گیا ہے۔ اس آپریشن کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ اور نگرانی کو مضبوط بنانا ہے۔
Published: undefined
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھی ہے، خاص طور پر روس یوکرین جنگ کے دوران، جہاں ان ہتھیاروں نے بحری محاذ پر فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ اسی تناظر میں امریکہ اور ایران دونوں اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined