امریکہ نے ایران کے جزیرہ قشم اور بندر عباس پر بمباری کی
ایک روز قبل ہرمز میں تین بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔

امریکہ نے ایک روز قبل ہرمز میں تین بحری جہازوں پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا تھا۔ آبنائے ہرمز میں ان حملوں نے مغربی ایشیا میں جنگ کے شعلوں کو ایک بار پھر بھڑکا دیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی فوج نے جزیرہ قشم، بندر عباس اور سریک میں فضائی حملے کیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے علاقے قشم جزیرہ اور بندر عباس میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی سریک میں سات دھماکوں کی اطلاع دی۔ ایران کے سرکاری چینل پریس ٹی وی کے مطابق جنوبی بندرگاہی شہر سریک میں کئی دھماکے ہوئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی حملے کیے گئے ہیں۔ سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کی وجہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو قرار دیا۔ سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ نے جہازوں پر ایرانی حملوں کو بلاجواز، خطرناک اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ دریں اثناء ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کو مفاہمتی یادداشت کی شقوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ان حملوں کا الزام امریکی حکومت پر عائد کیا۔ ایران نے کہا کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ قابل ذکر ہے کہ ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل کی پیداوار اور فروخت کے لیے جاری کردہ عمومی لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔
