عالمی خبریں

دنیا ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر، ٹرمپ کی نئی دھمکی، ’امریکہ آج رات بھی ایران پر شدید حملے کر سکتا ہے‘

ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید فضائی حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آج رات بھی شدید کارروائی کر سکتا ہے۔ ان کے بیان سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور جنگ کے خدشات گہرے ہو گئے ہیں

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ

 

واشنگٹن/انقرہ: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آج رات بھی ایران پر شدید فضائی حملے کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خدشات کو تقویت ملی ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ رات ایران پر بھرپور حملہ کیا تھا اور امکان ہے کہ آج رات بھی اسی نوعیت کی سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا رویہ انتہائی نامناسب ہے اور اس کے اقدامات کے جواب میں امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکی فوج نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق یہ حملے بین الاقوامی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے اور خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے پر قبضے کی کوشش بھی زیر غور ہے۔ ان کے اس بیان کو ایران کے خلاف سخت ترین انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل بھی امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب ان کی نظر میں ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایرانی حکومت کو "بیمار حکومت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے پر بات چیت وقت کا ضیاع ہے، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر اس صورتحال پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں مزید شدت اختیار کرتی ہیں تو پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اور وسیع تنازع کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی امن، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔